ghazalKuch Alfaaz

تری گلی ہے وہ ہے وہ تماشا کیے زما لگ ہوا پھروں ا سے کے بعد لگ آنا ہوا لگ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا مری دل نے اسے حقیقت بے وجہ مری مروت ہے وہ ہے وہ بےوفا لگ ہوا ہوا خفا تھی م گر اتنی سنگ دل بھی لگ تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو شمع جلانے کا حوصلہ لگ ہوا مری خلوص کی سیکل گری بھی ہار گئی حقیقت جانے کون سا پتھر تھا آئی لگ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا لگ ہوا شعور چاہیے ترتیب خار و خ سے کے لیے قف سے کو توڑ کے رکھا تو آشیا لگ ہوا ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانا ہوا کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصر پھروں ا سے کے بعد محبت کا حادثہ لگ ہوا

Related Ghazal

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

More from Qaisar-ul-Jafri

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہوں جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو شبنم کا اللہ ری بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے جاناں سا لگتا ہے ا سے بستی ہے وہ ہے وہ کون ہمارے آنسو پونچھےگا جو ملتا ہے ا سے کا دامن بھیگا لگتا ہے دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں شام ڈھلے ا سے سونے گھر ہے وہ ہے وہ میلا لگتا ہے ک سے کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے شیش محل ہے وہ ہے وہ اک اک چہرہ اپنا لگتا ہے

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا سورج پیام عشق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھا اتنی بری نہیں ہے کھنڈر کی زمین بھی ا سے ڈھیر کو سمیٹ نئے بام و در اٹھا ممکن ہے کوئی ہاتھ سمندر لپیٹ دے کشتی ہے وہ ہے وہ سو شگاف ہوں لن گر م گر اٹھا شاخ چمن ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر گیا تو تھا کیوں اب یہ عذاب در بدری عمر بھر اٹھا منزل پہ آ کے دیکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی لگ کتنا غمدیدہ تھا جو سر رہگزر اٹھا صحرا ہے وہ ہے وہ تھوڑی دیر ٹھہرنا غلط لگ تھا لے گرد باد بیٹھ گیا تو اب تو سر اٹھا دستک ہے وہ ہے وہ کوئی درد کی خوشبو ضرور تھی دروازہ کھولنے کے لیے گھر کا گھر اٹھا قیصر متاع دل کا خریدار کون ہے بازار اجڑ گیا تو ہے دکان ہنر اٹھا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

بیتابی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد لگ تھا آج سے پہلے دل ہے وہ ہے وہ یاروں اتنا ٹھنڈا درد لگ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد لگ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار لگ تھی شہر ہے وہ ہے وہ تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد لگ تھا مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد لگ تھا حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا سینے کا پتھر تھا قیصر غم دامن کی گرد لگ تھا

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ کل رات ہوا کیسی تھی دیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی زندگی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تک عمر بھر سر سے لگ اتری یہ بلا کیسی تھی سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیا بوند بھر دل پہ لگ برسی یہ گھٹا کیسی تھی کیا ملا فیصلہ ترک تعلق کر کے جاناں جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ دعا کیسی تھی ٹوٹ کر خود جو حقیقت بکھرا ہے تو معلوم ہوا ج سے سے لپٹا تھا حقیقت دیوار انا کیسی تھی جسم سے نوچ کے پھینکی بھی تو خوشبو لگ گئی یہ روایات کی بوسیدہ قباء کیسی تھی ڈوبتے سمے بھنور پوچھ رہا ہے قیصر جب کنارے سے چلے تھے تو فضا کیسی تھی

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.