دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہوں جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو شبنم کا اللہ ری بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے جاناں سا لگتا ہے ا سے بستی ہے وہ ہے وہ کون ہمارے آنسو پونچھےگا جو ملتا ہے ا سے کا دامن بھیگا لگتا ہے دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں شام ڈھلے ا سے سونے گھر ہے وہ ہے وہ میلا لگتا ہے ک سے کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے شیش محل ہے وہ ہے وہ اک اک چہرہ اپنا لگتا ہے
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے
Azhar Iqbal
61 likes
More from Qaisar-ul-Jafri
بیتابی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد لگ تھا آج سے پہلے دل ہے وہ ہے وہ یاروں اتنا ٹھنڈا درد لگ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد لگ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار لگ تھی شہر ہے وہ ہے وہ تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد لگ تھا مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد لگ تھا حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا سینے کا پتھر تھا قیصر غم دامن کی گرد لگ تھا
Qaisar-ul-Jafri
0 likes
تری گلی ہے وہ ہے وہ تماشا کیے زما لگ ہوا پھروں ا سے کے بعد لگ آنا ہوا لگ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا مری دل نے اسے حقیقت بے وجہ مری مروت ہے وہ ہے وہ بےوفا لگ ہوا ہوا خفا تھی م گر اتنی سنگ دل بھی لگ تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو شمع جلانے کا حوصلہ لگ ہوا مری خلوص کی سیکل گری بھی ہار گئی حقیقت جانے کون سا پتھر تھا آئی لگ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا لگ ہوا شعور چاہیے ترتیب خار و خ سے کے لیے قف سے کو توڑ کے رکھا تو آشیا لگ ہوا ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانا ہوا کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصر پھروں ا سے کے بعد محبت کا حادثہ لگ ہوا
Qaisar-ul-Jafri
1 likes
چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا
Qaisar-ul-Jafri
1 likes
دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ کل رات ہوا کیسی تھی دیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی زندگی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تک عمر بھر سر سے لگ اتری یہ بلا کیسی تھی سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیا بوند بھر دل پہ لگ برسی یہ گھٹا کیسی تھی کیا ملا فیصلہ ترک تعلق کر کے جاناں جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ دعا کیسی تھی ٹوٹ کر خود جو حقیقت بکھرا ہے تو معلوم ہوا ج سے سے لپٹا تھا حقیقت دیوار انا کیسی تھی جسم سے نوچ کے پھینکی بھی تو خوشبو لگ گئی یہ روایات کی بوسیدہ قباء کیسی تھی ڈوبتے سمے بھنور پوچھ رہا ہے قیصر جب کنارے سے چلے تھے تو فضا کیسی تھی
Qaisar-ul-Jafri
0 likes
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مری دامن سے ہو گئے بادہ آشامی خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بےوفا نہ لگے تو اس طرح سے مری ساتھ بے وفائی کر کہ تیرے بعد مجھے کوئی بےوفا نہ لگے تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصر کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزا نہ لگے
Qaisar-ul-Jafri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.
Similar Moods
More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.







