ghazalKuch Alfaaz

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مری دامن سے ہو گئے بادہ آشامی خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بےوفا نہ لگے تو اس طرح سے مری ساتھ بے وفائی کر کہ تیرے بعد مجھے کوئی بےوفا نہ لگے تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصر کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزا نہ لگے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کوشش سے اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ لگا ہوں زیادہ بھی ا گر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا

Tehzeeb Hafi

174 likes

آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

Jawwad Sheikh

50 likes

تمنا پھروں مچل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نے زندگی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر کے جھگڑے گھر کے قصے کام کی باتیں بلا ہر ایک ٹل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ نہیں ملتے ہوں مجھ سے جاناں تو سب ہمدرد ہیں مری زما لگ مجھ سے جل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ

Javed Akhtar

48 likes

More from Qaisar-ul-Jafri

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم بھی پاگل ہوں جائیں گے ایسا لگتا ہے کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو شبنم کا اللہ ری بھی جن کو دریا لگتا ہے آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن آتے جاتے جو ملتا ہے جاناں سا لگتا ہے ا سے بستی ہے وہ ہے وہ کون ہمارے آنسو پونچھےگا جو ملتا ہے ا سے کا دامن بھیگا لگتا ہے دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں شام ڈھلے ا سے سونے گھر ہے وہ ہے وہ میلا لگتا ہے ک سے کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے شیش محل ہے وہ ہے وہ اک اک چہرہ اپنا لگتا ہے

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

تری گلی ہے وہ ہے وہ تماشا کیے زما لگ ہوا پھروں ا سے کے بعد لگ آنا ہوا لگ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا مری دل نے اسے حقیقت بے وجہ مری مروت ہے وہ ہے وہ بےوفا لگ ہوا ہوا خفا تھی م گر اتنی سنگ دل بھی لگ تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو شمع جلانے کا حوصلہ لگ ہوا مری خلوص کی سیکل گری بھی ہار گئی حقیقت جانے کون سا پتھر تھا آئی لگ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا لگ ہوا شعور چاہیے ترتیب خار و خ سے کے لیے قف سے کو توڑ کے رکھا تو آشیا لگ ہوا ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانا ہوا کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصر پھروں ا سے کے بعد محبت کا حادثہ لگ ہوا

Qaisar-ul-Jafri

1 likes

بیتابی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد لگ تھا آج سے پہلے دل ہے وہ ہے وہ یاروں اتنا ٹھنڈا درد لگ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد لگ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار لگ تھی شہر ہے وہ ہے وہ تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد لگ تھا مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد لگ تھا حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا سینے کا پتھر تھا قیصر غم دامن کی گرد لگ تھا

Qaisar-ul-Jafri

0 likes

काग़ज़ काग़ज़ धूल उड़ेगी फ़न बंजर हो जाएगा जिस दिन सूखे दिल के आँसू सब पत्थर हो जाएगा टूटेंगी जब नींद से पलकें सो जाऊँगा चुपके से जिस जंगल में रात पड़ेगी मेरा घर हो जाएगा ख़्वाबों के ये पंछी कब तक शोर करेंगे पलकों पर शाम ढलेगी और सन्नाटा शाख़ों पर हो जाएगा रात क़लम ले कर आएगी इतनी सियाही छिड़केगी दिन का सारा मंज़र-नामा बे-मंज़र हो जाएगा नाख़ुन से भी ईंट कुरेदें मिल-जुल कर हम-साए तो आँगन की दीवार न टूटे लेकिन दर हो जाएगा 'क़ैसर' रो लो ग़ज़लें कह लो बाक़ी है कुछ दर्द अभी अगली रुतों में यूँँ लगता है सब पत्थर हो जाएगा

Qaisar-ul-Jafri

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.