بیتابی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد لگ تھا آج سے پہلے دل ہے وہ ہے وہ یاروں اتنا ٹھنڈا درد لگ تھا تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد لگ تھا پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار لگ تھی شہر ہے وہ ہے وہ تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد لگ تھا مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد لگ تھا حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا سینے کا پتھر تھا قیصر غم دامن کی گرد لگ تھا
Related Ghazal
हज़ारों ख़्वाहिशें ऐसी कि हर ख़्वाहिश पे दम निकले बहुत निकले मिरे अरमान लेकिन फिर भी कम निकले डरे क्यूँँ मेरा क़ातिल क्या रहेगा उस की गर्दन पर वो ख़ूँ जो चश्म-ए-तर से उम्र भर यूँँ दम-ब-दम निकले निकलना ख़ुल्द से आदम का सुनते आए हैं लेकिन बहुत बे-आबरू हो कर तिरे कूचे से हम निकले भरम खुल जाए ज़ालिम तेरे क़ामत की दराज़ी का अगर इस तुर्रा-ए-पुर-पेच-ओ-ख़म का पेच-ओ-ख़म निकले मगर लिखवाए कोई उस को ख़त तो हम से लिखवाए हुई सुब्ह और घर से कान पर रख कर क़लम निकले हुई इस दौर में मंसूब मुझ से बादा-आशामी फिर आया वो ज़माना जो जहाँ में जाम-ए-जम निकले हुई जिन से तवक़्क़ो' ख़स्तगी की दाद पाने की वो हम से भी ज़ियादा ख़स्ता-ए-तेग़-ए-सितम निकले मोहब्बत में नहीं है फ़र्क़ जीने और मरने का उसी को देख कर जीते हैं जिस काफ़िर पे दम निकले कहाँ मय-ख़ाने का दरवाज़ा 'ग़ालिब' और कहाँ वाइ'ज़ पर इतना जानते हैं कल वो जाता था कि हम निकले
Mirza Ghalib
26 likes
ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں
Jawwad Sheikh
50 likes
روح جسم کا ٹھور ہری چلتا رہتا ہے جینا مرنا کھونا پانا چلتا رہتا ہے سکھ دکھ والی چادر گھٹتی بڑھتی رہتی ہے مولا تیرا تانا وانا چلتا رہتا ہے عشق کروں تو جیتے جی مر جانا پڑتا ہے مر کر بھی لیکن جرمانا چلتا رہتا ہے جن دی نے کام دلایا غزلیں کہنے کا آج تلک ان کو نذرا لگ چلتا رہتا ہے
Kumar Vishwas
28 likes
جب سے ا سے نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف ا سے کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اب تک جتنے بھی لوگوں ہے وہ ہے وہ خود کو بانٹا ہے بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف ایک طرف مجھے جل گرا ہے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ گھر کرنے کی ایک طرف حقیقت کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف ا سے کی آنکھوں نے مجھ سے مری خودداری چینی ورنا پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا ہے وہ ہے وہ دنیا ایک طرف مری مرضی تھی ہے وہ ہے وہ زرے چنتا یا لہریں چنتا ا سے نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف
Tehzeeb Hafi
122 likes
اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے
Khalil Ur Rehman Qamar
50 likes
More from Qaisar-ul-Jafri
چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو میرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا خود کشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا جاناں تو کہتے تھے خدا جاناں سے خفا ہے قیصر ڈوبتے سمے حقیقت جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا
Qaisar-ul-Jafri
1 likes
تری گلی ہے وہ ہے وہ تماشا کیے زما لگ ہوا پھروں ا سے کے بعد لگ آنا ہوا لگ جانا ہوا کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا مری دل نے اسے حقیقت بے وجہ مری مروت ہے وہ ہے وہ بےوفا لگ ہوا ہوا خفا تھی م گر اتنی سنگ دل بھی لگ تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو شمع جلانے کا حوصلہ لگ ہوا مری خلوص کی سیکل گری بھی ہار گئی حقیقت جانے کون سا پتھر تھا آئی لگ لگ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا لگ ہوا شعور چاہیے ترتیب خار و خ سے کے لیے قف سے کو توڑ کے رکھا تو آشیا لگ ہوا ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانا ہوا کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصر پھروں ا سے کے بعد محبت کا حادثہ لگ ہوا
Qaisar-ul-Jafri
1 likes
صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا سورج پیام عشق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھا اتنی بری نہیں ہے کھنڈر کی زمین بھی ا سے ڈھیر کو سمیٹ نئے بام و در اٹھا ممکن ہے کوئی ہاتھ سمندر لپیٹ دے کشتی ہے وہ ہے وہ سو شگاف ہوں لن گر م گر اٹھا شاخ چمن ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر گیا تو تھا کیوں اب یہ عذاب در بدری عمر بھر اٹھا منزل پہ آ کے دیکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی لگ کتنا غمدیدہ تھا جو سر رہگزر اٹھا صحرا ہے وہ ہے وہ تھوڑی دیر ٹھہرنا غلط لگ تھا لے گرد باد بیٹھ گیا تو اب تو سر اٹھا دستک ہے وہ ہے وہ کوئی درد کی خوشبو ضرور تھی دروازہ کھولنے کے لیے گھر کا گھر اٹھا قیصر متاع دل کا خریدار کون ہے بازار اجڑ گیا تو ہے دکان ہنر اٹھا
Qaisar-ul-Jafri
1 likes
काग़ज़ काग़ज़ धूल उड़ेगी फ़न बंजर हो जाएगा जिस दिन सूखे दिल के आँसू सब पत्थर हो जाएगा टूटेंगी जब नींद से पलकें सो जाऊँगा चुपके से जिस जंगल में रात पड़ेगी मेरा घर हो जाएगा ख़्वाबों के ये पंछी कब तक शोर करेंगे पलकों पर शाम ढलेगी और सन्नाटा शाख़ों पर हो जाएगा रात क़लम ले कर आएगी इतनी सियाही छिड़केगी दिन का सारा मंज़र-नामा बे-मंज़र हो जाएगा नाख़ुन से भी ईंट कुरेदें मिल-जुल कर हम-साए तो आँगन की दीवार न टूटे लेकिन दर हो जाएगा 'क़ैसर' रो लो ग़ज़लें कह लो बाक़ी है कुछ दर्द अभी अगली रुतों में यूँँ लगता है सब पत्थर हो जाएगा
Qaisar-ul-Jafri
4 likes
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مری دامن سے ہو گئے بادہ آشامی خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بےوفا نہ لگے تو اس طرح سے مری ساتھ بے وفائی کر کہ تیرے بعد مجھے کوئی بےوفا نہ لگے تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصر کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزا نہ لگے
Qaisar-ul-Jafri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qaisar-ul-Jafri.
Similar Moods
More moods that pair well with Qaisar-ul-Jafri's ghazal.







