ghazalKuch Alfaaz

chehre pe mire zulf ko phailao kisi din kya roz garajte ho baras jaao kisi din razon ki tarah utro mire dil men kisi shab dastak pe mire haath ki khul jaao kisi din pedon ki tarah husn ki barish men naha luun badal ki tarah jhuum ke ghar aao kisi din khushbu ki tarah guzro mire dil ki gali se phulon ki tarah mujh pe bikhar jaao kisi din guzren jo mere ghar se to ruk jaaen sitare is tarah miri raat ko chamkao kisi din main apni har ik saans usi raat ko de duun sar rakh ke mire siine pe so jaao kisi din chehre pe mere zulf ko phailao kisi din kya roz garajte ho baras jao kisi din raazon ki tarah utro mere dil mein kisi shab dastak pe mere hath ki khul jao kisi din pedon ki tarah husn ki barish mein naha lun baadal ki tarah jhum ke ghar aao kisi din khushbu ki tarah guzro mere dil ki gali se phulon ki tarah mujh pe bikhar jao kisi din guzren jo mere ghar se to ruk jaen sitare is tarah meri raat ko chamkao kisi din main apni har ek sans usi raat ko de dun sar rakh ke mere sine pe so jao kisi din

Related Ghazal

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا

Kushal Dauneria

67 likes

More from Amjad Islam Amjad

پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے

Amjad Islam Amjad

0 likes

न आसमाँ से न दुश्मन के ज़ोर ओ ज़र से हुआ ये मोजज़ा तो मिरे दस्त-ए-बे-हुनर से हुआ क़दम उठा है तो पाँव तले ज़मीं ही नहीं सफ़र का रंज हमें ख़्वाहिश-ए-सफ़र से हुआ मैं भीग भीग गया आरज़ू की बारिश में वो अक्स अक्स में तक़्सीम चश्म-ए-तर से हुआ सियाही शब की न चेहरों पे आ गई हो कहीं सहर का ख़ौफ़ हमें आईनों के डर से हुआ कोई चले तो ज़मीं साथ साथ चलती है ये राज़ हम पे अयाँ गर्द-ए-रहगुज़र से हुआ तिरे बदन की महक ही न थी तो क्या रुकते गुज़र हमारा कई बार यूँँ तो घर से हुआ कहाँ पे सोए थे 'अमजद' कहाँ खुलीं आँखें गुमाँ क़फ़स का हमें अपने बाम-ओ-दर से हुआ

Amjad Islam Amjad

1 likes

تمہارا ہاتھ جب مری لرزتے ہاتھ سے چھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بہار آئی لگ تھی لیکن ہواؤں ہے وہ ہے وہ نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھی اچانک جب کہا جاناں نے مری منا پر مجھے جھوٹا اڑائے کے آخری دن تھے حقیقت کیا دن تھے یہیں ہم نے بہاروں کی دعا کی تھی کسی نے بھی نہیں سوچا چمن والوں نے مل کر جب خود اپنا ہی چمن لوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت گرفت م گر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب حقیقت باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا اڑائے کے آخری دن تھے بے حد ہی زور سے پیٹے ہوا کے بین پر سینے ہمارے خیرخوا ہوں نے کہ چان گرا کے ورق جیسا سمے نے جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوٹا اڑائے کے آخری دن تھے لگ رت تھی آندھیوں کی یہ لگ موسم تھا ہواؤں کا تو پھروں یہ کیا ہوا امجد ہر اک کونپل ہوئی اڑھائی ہوا مجروح ہر بوٹا اڑائے کے آخری دن تھے

Amjad Islam Amjad

0 likes

اگرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا لکھا دیوار کا پڑھتا نہیں تھا کچھ ایسی برف تھی ا سے کی نظر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزرنے کے لیے رستہ نہیں تھا تمہیں نے کون سی اچھائی کی ہے چلو مانا کہ ہے وہ ہے وہ اچھا نہیں تھا کھلی آنکھوں سے ساری عمر دیکھا اک ایسا خواب جو اپنا نہیں تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ تھا اکیلا کسی نے بھی مجھے دیکھا نہیں تھا سحر کے سمے کیسے چھوڑ جاتا تمہاری یاد تھی سپنا نہیں تھا کھڑی تھی رات کھڑکی کے سرہانے دریچے ہے وہ ہے وہ حقیقت چاند اترا نہیں تھا دلوں ہے وہ ہے وہ گرنے والے خوشی چنتا کہی اک ہائل ایسا نہیں تھا کچھ ایسی دھوپ تھی ان کے سروں پر خدا چنو غریبوں کا نہیں تھا ابھی حرفوں ہے وہ ہے وہ رنگ آتے ک ہاں سے ابھی ہے وہ ہے وہ نے اسے لکھا نہیں تھا تھی پوری شکل ا سے کی یاد مجھ کو م گر ہے وہ ہے وہ نے اسے دیکھا نہیں تھا برہ لگ خواب تھے سورج کے نیچے کسی امید کا پردہ نہیں تھا ہے امجد آج تک حقیقت بے وجہ دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ جو ا سے سمے بھی میرا نہی

Amjad Islam Amjad

0 likes

تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے جی چاہتا ہے منت طفلان دادخواہی ہجر خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے پھروں آج پتھروں سے ملاقات کیجیے پھروں آج سطح آب پہ چہرے بنائیے ہر انکشاف درد کے پردے ہے وہ ہے وہ آئےگا گر ہوں سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے پھولوں کا راستہ نہیں یاروں میرا سفر پاؤں عزیز ہیں تو ابھی لوٹ جائیے کب تک حنا کے نام پہ دیتے رہیں لہو کب تک نگار درد کو دلہن بنائیے امجد متاع عمر ذرا دیکھ بھال کے ایسا لگ ہوں کہ بعد ہے وہ ہے وہ آنسو بہائیے

Amjad Islam Amjad

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.