ghazalKuch Alfaaz

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے حقیقت فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے ماں کی آغوش ہے وہ ہے وہ کل موت کی آغوش ہے وہ ہے وہ آج ہم کو دنیا ہے وہ ہے وہ یہ دو سمے سہانے سے ملے کبھی لکھوانے گئے خط کبھی پڑھوانے گئے ہم حسینوں سے اسی حیلے بہانے سے ملے اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی جب کسی شہر ہے وہ ہے وہ کچھ یار پرانی سے ملے ایک ہم ہی نہیں پھرتے ہیں لیے قصہ غم ان کے خاموش لبوں پر بھی فسانے سے ملے کیسے مانیں کہ ا نہیں بھول گیا تو تو اے کیف ان کے خط آج ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سرہانے سے ملے

Related Ghazal

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ہم تمہارے غم سے باہر آ گئے ہجر سے بچنے کے منتر آ گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں کو اندر آنے کا کہا جاناں تو مری دل کے اندر آ گئے ایک ہی عورت کو دنیا مان کر اتنا گھوما ہوں کہ چکر آ گئے امتحاں عشق مشکل تھا م گر نکل کر کے اچھے نمبر آ گئے تری کچھ عاشق تو گنگارام ہیں اور جو باقی تھے نشتر آ گئے

Tehzeeb Hafi

52 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Kaif Bhopali

جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو

Kaif Bhopali

0 likes

سلام بخیر ا سے پر ا گر ایسا کوئی فنکار ہوں جائے سیاہی خون بن جائے تلوار ہوں جائے زمانے سے کہو کچھ سائقہ رفتار ہوں جائے ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں جائے زمانے کو تمنا ہے ترا دیدار کرنے کی مجھے یہ فکر ہے مجھ کو میرا دیدار ہوں جائے حقیقت زلفیں سانپ ہیں بے شک ا گر زنجیر بن جائیں محبت زہر ہے بے شک ا گر آزار ہوں جائے محبت سے تمہیں سرکار کہتے ہیں وگر لگ ہم نگاہیں ڈال دیں ج سے پر وہی سرکار ہوں جائے

Kaif Bhopali

1 likes

ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں

Kaif Bhopali

2 likes

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعویٰ داروں سے شفق سے نشہ محبت سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ ج گر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے ہے وہ ہے وہ کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے غاروں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیف پگھلے ہیں لگ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Kaif Bhopali

1 likes

لگ آیا مزہ شب کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سحر ہوں گئی چند انگڑائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جوش ہے وہ ہے وہ لگ رانائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے مسکرا مسکرا کر لگ دیکھو مری ساتھ جاناں بھی ہوں رسوائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب ہوں گیا تو ان کی محفل سے آنا گھرا جا رہا ہوں تماشائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت ہے یا آج سمجھاتے ذرا مل تو جائیں حقیقت تنہائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر آؤ جاناں کو نظر لگ لگ جائے چھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ انتقامن سننے والو یہ نغمے نہیں ہیں مری دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اے کیف ج سے دن سے مری ہوئے ہیں تو سارا زما لگ ہے شیدائیوں ہے وہ ہے وہ

Kaif Bhopali

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaif Bhopali.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.