لگ آیا مزہ شب کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سحر ہوں گئی چند انگڑائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جوش ہے وہ ہے وہ لگ رانائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نظر گھر گئی اپنی پرچھائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے مسکرا مسکرا کر لگ دیکھو مری ساتھ جاناں بھی ہوں رسوائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب ہوں گیا تو ان کی محفل سے آنا گھرا جا رہا ہوں تماشائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت ہے یا آج سمجھاتے ذرا مل تو جائیں حقیقت تنہائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر آؤ جاناں کو نظر لگ لگ جائے چھپا لوں تمہیں دل کی گہرائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ انتقامن سننے والو یہ نغمے نہیں ہیں مری دل کی چیخیں ہیں شہنائیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اے کیف ج سے دن سے مری ہوئے ہیں تو سارا زما لگ ہے شیدائیوں ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں
Tehzeeb Hafi
105 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا ا گر خدا نے بنانے کا اختیار دیا الم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں نئے مکان ہے وہ ہے وہ کھڑکی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمنوں سے ا گر جنگ جیت بھی جاؤں تو ان کی عورتیں قی گرا نہیں بناؤں گا تمہیں پتا تو چلے بے زبان چیز کا دکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چراغ کی لو ہی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک فلم بناؤں گا اپنے ثروت پر اور ا سے ہے وہ ہے وہ ریل کی پٹری نہیں بناؤں گا
Tehzeeb Hafi
92 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
More from Kaif Bhopali
جاناں سے لگ مل کے خوش ہیں حقیقت دعویٰ کدھر گیا تو دو روز ہے وہ ہے وہ گلاب سا چہرہ اتر گیا تو جان بہار جاناں نے حقیقت کانٹے چبھائے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا تو ا سے دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوں کہ جاناں جاناں نہیں رہے جاناں بھی یہ سوچ لو کہ میرا کیف مر گیا تو
Kaif Bhopali
0 likes
خانقاہ ہے وہ ہے وہ صوفی منا چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا جستجو دل شکستہ تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے ہے وہ ہے وہ سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدہ نرگ سے آج ہر گل نرگ سے بچھاؤ کھائے بیٹھا ہے
Kaif Bhopali
0 likes
ہاں یہ لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بدنا میاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے ہے وہ ہے وہ یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بے تا بیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر ہے وہ ہے وہ سمٹ کر رہ گئیں خو بیاں زیبائیاں رعنائیاں رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور حکمتیں آگاہیاں دانائیاں زخم دل کے پھروں ہرے کرنے مے کش بدلیاں برکھا رتیں پروائیاں دیدہ و دانستہ ان کے سامنے لغزشیں ناکا میاں پسپائیاں مری دل کی دھڑکنوں ہے وہ ہے وہ ڈھل گئیں چوڑیاں موسیقیاں شہنائیاں ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں الجھنیں فکرے قیا سے آرائیاں کیف پیدا کر سمندر کی طرح وسعتیں خاموشیاں گہرائیاں
Kaif Bhopali
2 likes
تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تری آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشا لگ لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل ہے وہ ہے وہ لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زما لگ لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا لگتا ہے سچ تو یہ ہے پھول کا دل بھی چھلنی ہے ہنستا چہرہ ایک بہانا لگتا ہے سننے والے گھنٹوں سنتے رہتے ہیں میرا فسا لگ سب کا فسا لگ لگتا ہے کیف بتا کیا تیری غزل ہے وہ ہے وہ جادو ہے بچہ بچہ تیرا دیوا لگ لگتا ہے
Kaif Bhopali
2 likes
تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے تو آ کے جان رات کے منظر ہے وہ ہے وہ ڈال دے جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکے اس کا کا دن خدا شگاف مری سر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اللہ تیرے ساتھ ہے ملاح کو نہ دیکھ یہ ٹوٹی فوٹی ناو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈال دے آ تیرے مال و زر کو ہے وہ ہے وہ تقدیس بخش دوں لا اپنا مال و زر مری ٹھوکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے بھاگ ایسے رہنما سے جو لگتا ہے خضر سا جانے یہ کس جگہ تجھے چکر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اس کا کا سے تری مکان کا منظر ہے بد نما چنگاری میرے فوس کے چھپر ہے وہ ہے وہ ڈال دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پناہ دی تجھے بارش کی رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جاتے جاتے آگ مری گھر ہے وہ ہے وہ ڈال دے اے کیف جاگتے تجھے آواز صور پہر ہوا اب لاش چنو جسم کو بستر ہے وہ ہے وہ ڈال دے
Kaif Bhopali
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kaif Bhopali.
Similar Moods
More moods that pair well with Kaif Bhopali's ghazal.







