ghazalKuch Alfaaz

دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیں مسائل ہیں بے حد سے ان ہے وہ ہے وہ ڈھل کے شعر کہتے ہیں دہکتے آگ کے شعلوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچان لیجے ہم غزل کے شعر کہتے ہیں روایت کے پجاری ا سے لیے ناراض ہیں ہم سے غلطیاں یہ ہے نئے رستوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہائیوں کا شور جب بےچین کرتا ہے اکٹھی کرتے ہیں یادیں غزل کے شعر کہتے ہیں ستاروں کی طرح روشن ہیں جن کے لفظ ذہنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت شاید موم کی صورت پگھل کے شعر کہتے ہیں ہماری شاعری ا سے کو کہی رسوا لگ کر ڈالے سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ تھوڑا سنبھل کے شعر کہتے

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

More from Balmohan Pandey

عیش ماضی کے گنا حال کا طع لگ دے دے گھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانا دے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے شہر کو اک بے وجہ کا ہمناہم کیا چاہے اب جو بھی اسے نام زما لگ دے دے سنگ زادوں کو بھی تعمیر ہے وہ ہے وہ شامل کر لو ا سے سے پہلے کہ کوئی آئی لگ خا لگ دے دے ا سے کا رومال بھی مجبوری تھا ہمدر گرا نہیں ا سے کو یہ ڈر تھا کوئی اور لگ شا لگ دے دے دل کے اجڑے ہوئے جنگل کو پڑا رہنے دو عین ممکن ہے پرندوں کو ہری دے دے

Balmohan Pandey

3 likes

ا سے سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو اپنے پہلو سے کہی دور بٹھا دے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن فہم کسی وصل کا محتاج نہیں چاندنی رات ہے اک شعر سنا دے مجھ کو خود کشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز زندگی اب کوئی رستہ لگ دکھا دے مجھ کو ایک یہ زخم ہی کافی ہے مری جینے کو چارا گر ٹھیک لگ ہونے کی دوا دے مجھ کو یوں تو سورج ہوں م گر فکر لگی رہتی ہے حقیقت چراغوں کے بھرم ہے وہ ہے وہ لگ بجھا دے مجھ کو تجھ کو معلوم نہیں عشق کسے کہتے ہیں اپنے سینے پہ نہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دے مجھ کو ہر نئے بے وجہ پہ کھل جانے کی عادت موہن دینے والے سے کہو تھوڑی انا دے مجھ کو

Balmohan Pandey

13 likes

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے ہم ادا سے نہیں سر ب سر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے

Balmohan Pandey

8 likes

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے ہم اب ادا سے نہیں سر بسر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے گئے دنوں ہے وہ ہے وہ کوئی شوق تھا محبت کا اب ا سے عذاب ہے وہ ہے وہ یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے یہ ایک دکھ ہی دبا رہ گیا تو ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مصرع جسے شعر کر نہیں پائے ا گر ہوں نبھائیے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ہے وہ ہے وہ چاہتا یہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف ہجر ک ہوں اور فون کٹ جائے

Balmohan Pandey

5 likes

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں دیکھا نہیں جاتا ہے م گر دیکھ رہا ہوں تیرک لگاتار ی ہاں ڈوب رہے ہیں چپ چاپ ہے وہ ہے وہ دریا کا ہنر دیکھ رہا ہوں ا سے خواب کی تعبیر کوئی مجھ کو بتا دے منزل سے بھی آگے کا سفر دیکھ رہا ہوں ا سے بے وجہ کے ہونٹوں پہ میرا ذکر بے حد ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں جو تجھ کو بے حد دور کبھی لے گئی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے وہی گھبرائیے دیکھ رہا ہوں اک عمر سے قائم ہے یہ راتوں کی حکومت اک عمر سے ہے وہ ہے وہ خواب سحر دیکھ رہا ہوں

Balmohan Pandey

13 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Balmohan Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Balmohan Pandey's ghazal.