عیش ماضی کے گنا حال کا طع لگ دے دے گھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانا دے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے شہر کو اک بے وجہ کا ہمناہم کیا چاہے اب جو بھی اسے نام زما لگ دے دے سنگ زادوں کو بھی تعمیر ہے وہ ہے وہ شامل کر لو ا سے سے پہلے کہ کوئی آئی لگ خا لگ دے دے ا سے کا رومال بھی مجبوری تھا ہمدر گرا نہیں ا سے کو یہ ڈر تھا کوئی اور لگ شا لگ دے دے دل کے اجڑے ہوئے جنگل کو پڑا رہنے دو عین ممکن ہے پرندوں کو ہری دے دے
Related Ghazal
خواب کے ہی ہم سہارے چل رہے ہیں زخم کو بھی گدگداتے چل رہے ہیں کیا بتائیں اب تمہیں ہم حال اپنا ہجر ہے وہ ہے وہ کیسے دیوانے چل رہے ہیں دریا کی تنہائی کا تو سوچئے ساتھ ج سے کے دو کنارے چل رہے ہیں جاناں کو کیا لگتا ہے تنہا چل رہا ہوں ساتھ مری چاند تارے چل رہے ہیں
Anand Raj Singh
32 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا آج یہ ک سے بات پہ رونا آیا ک سے لیے جیتے ہیں ہم ک سے کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
Sahir Ludhianvi
29 likes
بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے
Tehzeeb Hafi
182 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Balmohan Pandey
سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے ہم ادا سے نہیں سر ب سر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے
Balmohan Pandey
8 likes
دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیں مسائل ہیں بے حد سے ان ہے وہ ہے وہ ڈھل کے شعر کہتے ہیں دہکتے آگ کے شعلوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچان لیجے ہم غزل کے شعر کہتے ہیں روایت کے پجاری ا سے لیے ناراض ہیں ہم سے غلطیاں یہ ہے نئے رستوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہائیوں کا شور جب بےچین کرتا ہے اکٹھی کرتے ہیں یادیں غزل کے شعر کہتے ہیں ستاروں کی طرح روشن ہیں جن کے لفظ ذہنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت شاید موم کی صورت پگھل کے شعر کہتے ہیں ہماری شاعری ا سے کو کہی رسوا لگ کر ڈالے سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ تھوڑا سنبھل کے شعر کہتے
Balmohan Pandey
6 likes
ا سے سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو اپنے پہلو سے کہی دور بٹھا دے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن فہم کسی وصل کا محتاج نہیں چاندنی رات ہے اک شعر سنا دے مجھ کو خود کشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز زندگی اب کوئی رستہ لگ دکھا دے مجھ کو ایک یہ زخم ہی کافی ہے مری جینے کو چارا گر ٹھیک لگ ہونے کی دوا دے مجھ کو یوں تو سورج ہوں م گر فکر لگی رہتی ہے حقیقت چراغوں کے بھرم ہے وہ ہے وہ لگ بجھا دے مجھ کو تجھ کو معلوم نہیں عشق کسے کہتے ہیں اپنے سینے پہ نہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دے مجھ کو ہر نئے بے وجہ پہ کھل جانے کی عادت موہن دینے والے سے کہو تھوڑی انا دے مجھ کو
Balmohan Pandey
13 likes
روانگی ہے وہ ہے وہ سمے کا خیال کرتے ہیں پھروں ا سے کو بھیج کے پہروں ملال کرتے ہیں ذرا سے تلخ بیانی پسند ہیں پھروں بھی ادا سے لوگ محبت غصہ کرتے ہیں اب ان کو عشق کے صاحب کردار کون سمجھائے بجھے چراغ ہوا سے سوال کرتے ہیں گناہ ہے عشق پہ پابندیاں بجا لیکن تمہارے لوگ تو جینا محال کرتے ہیں ا سے ایک جملے نے کرنے نہیں دیا کچھ بھی جو لوگ کچھ نہیں کرتے غصہ کرتے ہیں
Balmohan Pandey
13 likes
سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے ہم اب ادا سے نہیں سر بسر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے گئے دنوں ہے وہ ہے وہ کوئی شوق تھا محبت کا اب ا سے عذاب ہے وہ ہے وہ یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے یہ ایک دکھ ہی دبا رہ گیا تو ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مصرع جسے شعر کر نہیں پائے ا گر ہوں نبھائیے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ہے وہ ہے وہ چاہتا یہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف ہجر ک ہوں اور فون کٹ جائے
Balmohan Pandey
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Balmohan Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Balmohan Pandey's ghazal.







