ghazalKuch Alfaaz

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے ہم ادا سے نہیں سر ب سر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Balmohan Pandey

عیش ماضی کے گنا حال کا طع لگ دے دے گھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانا دے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے شہر کو اک بے وجہ کا ہمناہم کیا چاہے اب جو بھی اسے نام زما لگ دے دے سنگ زادوں کو بھی تعمیر ہے وہ ہے وہ شامل کر لو ا سے سے پہلے کہ کوئی آئی لگ خا لگ دے دے ا سے کا رومال بھی مجبوری تھا ہمدر گرا نہیں ا سے کو یہ ڈر تھا کوئی اور لگ شا لگ دے دے دل کے اجڑے ہوئے جنگل کو پڑا رہنے دو عین ممکن ہے پرندوں کو ہری دے دے

Balmohan Pandey

3 likes

روانگی ہے وہ ہے وہ سمے کا خیال کرتے ہیں پھروں ا سے کو بھیج کے پہروں ملال کرتے ہیں ذرا سے تلخ بیانی پسند ہیں پھروں بھی ادا سے لوگ محبت غصہ کرتے ہیں اب ان کو عشق کے صاحب کردار کون سمجھائے بجھے چراغ ہوا سے سوال کرتے ہیں گناہ ہے عشق پہ پابندیاں بجا لیکن تمہارے لوگ تو جینا محال کرتے ہیں ا سے ایک جملے نے کرنے نہیں دیا کچھ بھی جو لوگ کچھ نہیں کرتے غصہ کرتے ہیں

Balmohan Pandey

13 likes

دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیں مسائل ہیں بے حد سے ان ہے وہ ہے وہ ڈھل کے شعر کہتے ہیں دہکتے آگ کے شعلوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچان لیجے ہم غزل کے شعر کہتے ہیں روایت کے پجاری ا سے لیے ناراض ہیں ہم سے غلطیاں یہ ہے نئے رستوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہائیوں کا شور جب بےچین کرتا ہے اکٹھی کرتے ہیں یادیں غزل کے شعر کہتے ہیں ستاروں کی طرح روشن ہیں جن کے لفظ ذہنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت شاید موم کی صورت پگھل کے شعر کہتے ہیں ہماری شاعری ا سے کو کہی رسوا لگ کر ڈالے سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ تھوڑا سنبھل کے شعر کہتے

Balmohan Pandey

6 likes

آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوں دیکھا نہیں جاتا ہے م گر دیکھ رہا ہوں تیرک لگاتار ی ہاں ڈوب رہے ہیں چپ چاپ ہے وہ ہے وہ دریا کا ہنر دیکھ رہا ہوں ا سے خواب کی تعبیر کوئی مجھ کو بتا دے منزل سے بھی آگے کا سفر دیکھ رہا ہوں ا سے بے وجہ کے ہونٹوں پہ میرا ذکر بے حد ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں جو تجھ کو بے حد دور کبھی لے گئی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے وہی گھبرائیے دیکھ رہا ہوں اک عمر سے قائم ہے یہ راتوں کی حکومت اک عمر سے ہے وہ ہے وہ خواب سحر دیکھ رہا ہوں

Balmohan Pandey

13 likes

سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے ہم اب ادا سے نہیں سر بسر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے گئے دنوں ہے وہ ہے وہ کوئی شوق تھا محبت کا اب ا سے عذاب ہے وہ ہے وہ یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے یہ ایک دکھ ہی دبا رہ گیا تو ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مصرع جسے شعر کر نہیں پائے ا گر ہوں نبھائیے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ہے وہ ہے وہ چاہتا یہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف ہجر ک ہوں اور فون کٹ جائے

Balmohan Pandey

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Balmohan Pandey.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Balmohan Pandey's ghazal.