سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے ہم اب ادا سے نہیں سر بسر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے گئے دنوں ہے وہ ہے وہ کوئی شوق تھا محبت کا اب ا سے عذاب ہے وہ ہے وہ یہ ذہن کون الجھائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے یہ ایک دکھ ہی دبا رہ گیا تو ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک مصرع جسے شعر کر نہیں پائے ا گر ہوں نبھائیے ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ہے وہ ہے وہ چاہتا یہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف ہجر ک ہوں اور فون کٹ جائے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Balmohan Pandey
عیش ماضی کے گنا حال کا طع لگ دے دے گھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانا دے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے شہر کو اک بے وجہ کا ہمناہم کیا چاہے اب جو بھی اسے نام زما لگ دے دے سنگ زادوں کو بھی تعمیر ہے وہ ہے وہ شامل کر لو ا سے سے پہلے کہ کوئی آئی لگ خا لگ دے دے ا سے کا رومال بھی مجبوری تھا ہمدر گرا نہیں ا سے کو یہ ڈر تھا کوئی اور لگ شا لگ دے دے دل کے اجڑے ہوئے جنگل کو پڑا رہنے دو عین ممکن ہے پرندوں کو ہری دے دے
Balmohan Pandey
3 likes
ا سے سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کو اپنے پہلو سے کہی دور بٹھا دے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن فہم کسی وصل کا محتاج نہیں چاندنی رات ہے اک شعر سنا دے مجھ کو خود کشی کرنے کے موسم نہیں آتے ہر روز زندگی اب کوئی رستہ لگ دکھا دے مجھ کو ایک یہ زخم ہی کافی ہے مری جینے کو چارا گر ٹھیک لگ ہونے کی دوا دے مجھ کو یوں تو سورج ہوں م گر فکر لگی رہتی ہے حقیقت چراغوں کے بھرم ہے وہ ہے وہ لگ بجھا دے مجھ کو تجھ کو معلوم نہیں عشق کسے کہتے ہیں اپنے سینے پہ نہیں دل ہے وہ ہے وہ جگہ دے مجھ کو ہر نئے بے وجہ پہ کھل جانے کی عادت موہن دینے والے سے کہو تھوڑی انا دے مجھ کو
Balmohan Pandey
13 likes
سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے ہم ادا سے نہیں سر ب سر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے
Balmohan Pandey
8 likes
دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیں مسائل ہیں بے حد سے ان ہے وہ ہے وہ ڈھل کے شعر کہتے ہیں دہکتے آگ کے شعلوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچان لیجے ہم غزل کے شعر کہتے ہیں روایت کے پجاری ا سے لیے ناراض ہیں ہم سے غلطیاں یہ ہے نئے رستوں پہ چل کے شعر کہتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہائیوں کا شور جب بےچین کرتا ہے اکٹھی کرتے ہیں یادیں غزل کے شعر کہتے ہیں ستاروں کی طرح روشن ہیں جن کے لفظ ذہنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت شاید موم کی صورت پگھل کے شعر کہتے ہیں ہماری شاعری ا سے کو کہی رسوا لگ کر ڈالے سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ تھوڑا سنبھل کے شعر کہتے
Balmohan Pandey
6 likes
ساری دنیا کی نگا ہوں سے بچا کر رکھنا اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہی ہر درد کا زیور رکھنا اس کا کا کو عادت یہ پریشان بے حد رکھےگی ا سے کی عادت تھی میرا ہاتھ پکڑ کر رکھنا ا سے کیا شکوہ اسے روک نہیں پائے ہم ایک مفل سے کو ک ہاں آتا ہے زیور رکھنا ہاں یہ حقیقت عشق چھپانے کے زمانے موہن یاد آتا ہے غلط نام سے نمبر رکھنا
Balmohan Pandey
23 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Balmohan Pandey.
Similar Moods
More moods that pair well with Balmohan Pandey's ghazal.







