देखना क़िस्मत कि आप अपने पे रश्क आ जाए है मैं उसे देखूँ भला कब मुझ से देखा जाए है हाथ धो दिल से यही गर्मी गर अंदेशे में है आबगीना तुन्दि-ए-सहबास पिघला जाए है ग़ैर को या रब वो क्यूँँकर मन-ए-गुस्ताख़ी करे गर हया भी उस को आती है तो शरमा जाए है शौक़ को ये लत कि हर दम नाला खींचे जाइए दिल की वो हालत कि दम लेने से घबरा जाए है दूर चश्म-ए-बद तिरी बज़्म-ए-तरब से वाह वाह नग़्मा हो जाता है वाँ गर नाला मेरा जाए है गरचे है तर्ज़-ए-तग़ाफ़ुल पर्दा-दार-ए-राज़-ए-इश्क़ पर हम ऐसे खोए जाते हैं कि वो पा जाए है उस की बज़्म-आराइयाँ सुन कर दिल-ए-रंजूर याँ मिस्ल-ए-नक़्श-ए-मुद्दआ-ए-ग़ैर बैठा जाए है हो के आशिक़ वो परी-रुख़ और नाज़ुक बन गया रंग खुलता जाए है जितना कि उड़ता जाए है नक़्श को उस के मुसव्विर पर भी क्या क्या नाज़ हैं खींचता है जिस क़दर उतना ही खिंचता जाए है साया मेरा मुझ से मिस्ल-ए-दूद भागे है 'असद' पास मुझ आतिश-ब-जाँ के किस से ठहरा जाए है
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
More from Mirza Ghalib
दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया
Mirza Ghalib
0 likes
غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی
Mirza Ghalib
0 likes
کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہوں جائیے بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہوں جائیے بیضا آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قف سے از سر نو زندگی ہوں گر رہا ہوں جائیے عالم بے انتہا لگ قلب نیاز کلفت وحشت سرسری فرش پا انداز سایہ بال ہما ہوں جائیے
Mirza Ghalib
0 likes
پھروں کچھ اک دل کو بے قراری ہے سینا جویا زخم کاری ہے پھروں ج گر خودنے لگا ناخن آمد فصل لالہ کاری ہے قبلہ مقصد نگاہ نیاز پھروں وہی پردہ عماری ہے چشم دلال جن سے رسوائی دل خریدار ذوق خواری ہے وہی صد رنگ نالہ فرسائی وہی سدگونا خوشی باری ہے دل ہوا خرام ناز سے پھروں محشرستان ستان بے قراری ہے جلوہ پھروں عرض ناز کرتا ہے روز بازار جاں سپاری ہے پھروں اسی بےوفا پہ مرتے ہیں پھروں وہی زندگی ہماری ہے پھروں کھلا ہے در عدالت ناز گرم بازار فوجداری ہے ہوں رہا ہے جہان ہے وہ ہے وہ اندھیر زلف کی پھروں سرشتہ داری ہے پھروں دیا پارہ ج گر نے سوال ایک پڑنا و آہ و زاری ہے پھروں ہوئے ہیں گواہ عشق طلب خوشی باری کا حکم جاری ہے دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا آج پھروں ا سے کی رو بکاری ہے بے خو گرا بے سبب نہیں تاکتے کچھ تو ہے ج سے کی پردہ داری ہے
Mirza Ghalib
0 likes
بے حد صحیح غم گیتی شراب کم کیا ہے غلام ساقی کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے تمہاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے رقیب پر ہے ا گر لطف تو ستم کیا ہے سخن ہے وہ ہے وہ خامہ غالب کی آتش افشانی یقین ہے ہم کو بھی لیکن اب ا سے ہے وہ ہے وہ دم کیا ہے کٹے تو شب کہی کاٹے تو سانپ کہلاوے کوئی بتاؤ کہ حقیقت زلف خم بہ خم کیا ہے لکھا کرے کوئی احکام تالا مولود کسے خبر ہے کہ واں جنبش کیا ہے لگ حشر و نشر کا قائل لگ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھروں قسم کیا ہے حقیقت داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدم وگر لگ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے
Mirza Ghalib
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







