ghazalKuch Alfaaz

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمان وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا پھر کئی لوگ نظر سے گزرے پھر کوئی شہر طرب یاد آیا حال دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایۂ گل میں ناصرؔ ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے

Azhar Iqbal

61 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

مری دل ہے وہ ہے وہ یہ تری سوا کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے ہم محبت ہے وہ ہے وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں اور محبت ہے وہ ہے وہ جیتا ہوا کون ہے مری پہلو سے اٹھ کے گیا تو کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے

Tehzeeb Hafi

145 likes

More from Nasir Kazmi

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

मुसलसल बेकली दिल को रही है मगर जीने की सूरत तो रही है मैं क्यूँँ फिरता हूँ तन्हा मारा मारा ये बस्ती चैन से क्यूँँ सो रही है चले दिल से उम्मीदों के मुसाफ़िर ये नगरी आज ख़ाली हो रही है न समझो तुम इसे शोर-ए-बहाराँ ख़िज़ाँ पत्तों में छुप कर रो रही है हमारे घर की दीवारों पे 'नासिर' उदासी बाल खोले सो रही है

Nasir Kazmi

2 likes

शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ

Nasir Kazmi

1 likes

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا چھوؤں گا ہاتھ تھا میرے شانے پر ایک یہ وقت کہ ہے وہ ہے وہ تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے چیزیں کی حقیقت اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ایک نئی دنیا کی دھن ہے وہ ہے وہ اطراف پھرتا ہوں میری تجھ سے کیسے سنانی ایک ہیں تیرے فکر و عمل میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ ای سے کالی رات کو دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مری چلنا ہوں تو چل

Nasir Kazmi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.