گرج بر سے پیاسی دھرتی پر پھروں پانی دے مولا چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا دو اور دو کا جوڑ ہمیشہ چار ک ہاں ہوتا ہے سوچ سمجھ والوں کو تھوڑی نادانی دے مولا پھروں روشن کر زہر کا پیالا چمکا نئی صلیبیں جھوٹوں کی دنیا ہے وہ ہے وہ سچ کو تابانی دے مولا پھروں مورت سے باہر آ کر چاروں اور بکھر جا پھروں مندیر کو کوئی میرا دیوانی دے مولا تری ہوتے کوئی ک سے کی جان کا دشمن کیوں ہوں جینے والوں کو مرنے کی آسانی دے مولا
Related Ghazal
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
مجھ ہے وہ ہے وہ کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا تاب غم منت خوشامد التجا اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا کروں مر جاؤں کیا تری جلسے ہے وہ ہے وہ تیرا پرچم لیے سیکڑوں لاشیں بھی ہیں گنواؤں کیا کل ی ہاں ہے وہ ہے وہ تھا ج ہاں جاناں آج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری ہی طرح اتراوں کیا ایک پتھر ہے حقیقت مری راہ کا گر لگ ٹھکراؤں تو ٹھوکر کھاؤں کیا پھروں جگایا تو نے سوئے شعر کو پھروں وہی لہجہ درازی آؤں کیا
Rahat Indori
56 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں
Nida Fazli
0 likes
جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے
Nida Fazli
1 likes
آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی صحیح جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی صحیح ہم ک ہاں کے دیوتا ہیں بےوفا حقیقت ہیں تو کیا گھر ہے وہ ہے وہ کوئی گھر کی ظفر ہے چلو یوں ہی صحیح حقیقت نہیں تو کوئی تو ہوگا کہی ا سے کی طرح جسم ہے وہ ہے وہ جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی صحیح میلے ہوں جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی صحیح بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنا آدمی ہے وہ ہے وہ آدمیت ہے چلو یوں ہی صحیح جیسی ہونی چاہیے تھی ویسی تو دنیا نہیں دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی صحیح
Nida Fazli
4 likes
سفر کو جب بھی کسی داستان ہے وہ ہے وہ رکھنا قدم یقین ہے وہ ہے وہ منزل گمان ہے وہ ہے وہ رکھنا جو ساتھ ہے وہی گھر کا نصیب ہے لیکن جو کھو گیا تو ہے اسے بھی مکان ہے وہ ہے وہ رکھنا جو دیکھتی ہیں نگاہیں وہی نہیں سب کچھ یہ احتیاط بھی اپنے نقص ہے وہ ہے وہ رکھا حقیقت ایک خواب جو چہرہ کبھی نہیں بنتا بنا کے چاند اسے آسمان ہے وہ ہے وہ رکھنا چمکتے چاند ستاروں کا کیا بھروسا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی دھول بھی اپنی اڑان ہے وہ ہے وہ رکھنا
Nida Fazli
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







