har ek ghham nichod ke har ik baras jiye do din ki zindagi men hazaron baras jiye sadiyon pe ikhtiyar nahin tha hamara dost do chaar lamhe bas men the do chaar bas jiye sahra ke us taraf se gae saare karvan sun sun ke ham to sirf sada-e-jaras jiye honton men le ke raat ke anchal ka ik sira ankhon pe rakh ke chand ke honton ka mas jiye mahdud hain duaen mire ikhtiyar men har saans pur-sukun ho tu sau baras jiye har ek gham nichod ke har ek baras jiye do din ki zindagi mein hazaron baras jiye sadiyon pe ikhtiyar nahin tha hamara dost do chaar lamhe bas mein the do chaar bas jiye sahra ke us taraf se gae sare karwan sun sun ke hum to sirf sada-e-jaras jiye honton mein le ke raat ke aanchal ka ek sira aankhon pe rakh ke chand ke honton ka mas jiye mahdud hain duaen mere ikhtiyar mein har sans pur-sukun ho tu sau baras jiye
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Gulzar
ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता
Gulzar
3 likes
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی ہے وہ ہے وہ چھینا جھپٹی ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا ہوںگا ہے وہ ہے وہ پیام عشق کھلتا گیا تو جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ مرجھاتے تو اڑائے کیسے کٹےگی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے بلکتی ہوئے حسرتیں اپنی یتیموں لگ داڑھیاں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے سی لیے ہونٹ حقیقت پاکیزہ نگاہیں سن کر میلی ہوں جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
Gulzar
1 likes
ایک پرواز دکھائی دی ہے تیری آواز سنائی دی ہے صرف اک صفحہ پلٹ کر ا سے نے ساری باتوں کی صفائی دی ہے پھروں وہیں لوٹ کے جانا ہوگا یار نے کیسی رہائی دی ہے ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ کٹی تھیں صدیاں ا سے نے صدیوں کی جدائی دی ہے زندگی پر بھی کوئی زور نہیں دل نے ہر چیز پرائی دی ہے آگ ہے وہ ہے وہ کیا کیا جلا ہے شب بھر کتنی سپید و سیاہ دکھائی دی ہے
Gulzar
2 likes
او سے پڑی تھی رات بے حد اور کہرا تھا گرمائش پر سیلی سی خموشی ہے وہ ہے وہ آواز سنی فرمائش پر فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیں لوگ ب زید رہتے ہیں پھروں بھی رشتوں کی پیمائش پر منا موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوں آپ بےخوف تھے ہم سے ب سے اک کروٹ کی گنجائش پر کاغذ کا اک چاند لگا کر رات اندھیری کھڑکی پر دل ہے وہ ہے وہ کتنے خوش تھے اپنی فرقت کی آرائش پر دل کا حجرہ کتنی بار اجڑا بھی اور بسایا بھی ساری عمر ک ہاں ٹھہرا ہے کوئی ایک رہائش پر دھوپ اور چھاؤں بانٹ کے جاناں نے آنگن ہے وہ ہے وہ دیوار چنی کیا اتنا آسان ہے زندہ رہنا ا سے آسائش پر شاید تین نجومی مری موت پہ آ کر پہنچیں گے ایسا ہی اک بار ہوا تھا عیسی کی پیدائش پر
Gulzar
1 likes
جب بھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی بھر آئی لوگ کچھ ڈوبتے نظر آئی اپنا محور بدل چکی تھی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم خلا سے جو لوٹ کر آئی چاند جتنے بھی گم ہوئے شب کے سب کے الزام مری سر آئی چند لمحے جو لوٹ کر آئی رات کے آخری پہر آئی ایک گولی گئی تھی سو فلک اک پرندے کے بال و پر آئی کچھ چراغوں کی سان سے ٹوٹ گئی کچھ ب مشکل دم سحر آئی مجھ کو اپنا پتا ٹھکانا ملے حقیقت بھی اک بار مری گھر آئی
Gulzar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's ghazal.







