har tarah ke jazbat ka elaan hain ankhen shabnam kabhi shoala kabhi tufan hain ankhen ankhon se badi koi tarazu nahin hoti tulta hai bashar jis men vo mizan hain ankhen ankhen hi milati hain zamane men dilon ko anjan hain ham tum agar anjan hain ankhen lab kuchh bhi kahen is se haqiqat nahin khulti insan ke sach jhuut ki pahchan hain ankhen ankhen na jhukin teri kisi ghhair ke aage duniya men badi chiiz miri jaan! hain ankhen har tarah ke jazbaat ka elan hain aankhen shabnam kabhi shoala kabhi tufan hain aankhen aankhon se badi koi taraazu nahin hoti tulta hai bashar jis mein wo mizan hain aankhen aankhen hi milati hain zamane mein dilon ko anjaan hain hum tum agar anjaan hain aankhen lab kuchh bhi kahen is se haqiqat nahin khulti insan ke sach jhut ki pahchan hain aankhen aankhen na jhukin teri kisi ghair ke aage duniya mein badi chiz meri jaan! hain aankhen
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
More from Sahir Ludhianvi
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
Sahir Ludhianvi
2 likes
تری دنیا ہے وہ ہے وہ جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیں وہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیں کوئی تو ایسا گھر ہوتا ج ہاں سے پیار مل جاتا وہی بیگا لگ چہرے ہیں ج ہاں جائیں جدھر جائیں انتقامن و آ سماں والے بتا ا سے ہے وہ ہے وہ برا کیا ہے خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں
Sahir Ludhianvi
7 likes
اب آئیں یا لگ آئیں ادھر پوچھتے چلو کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو ہم سے ا گر ہے ترک تعلق تو کیا ہوا یاروں کوئی تو ان کی خبر پوچھتے چلو جو خود کو کہ رہے ہیں کہ منزل شنا سے ہیں ان کو بھی کیا خبر ہے م گر پوچھتے چلو ک سے منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم اے رہ روان خاک بسر پوچھتے چلو
Sahir Ludhianvi
1 likes
بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم خاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہم کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا مایو سے تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم لے دے کے اپنے پا سے فقط اک نظر تو ہے کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم مانا کہ ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو لگ دل ناشاد کر سکے کچھ بچھاؤ کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم
Sahir Ludhianvi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







