ghazalKuch Alfaaz

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیا سے کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی رکتا ہوں م گر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تری جاتے ہی ہے وہ ہے وہ شکنوں سے لگ بھر جاؤں کہی کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے چاند ڈھلتا ہے تو ا سے کا بھی مجھے دکھ فیصل کسی قبا جاں نشانی کی طرح ہوتا ہے

Related Ghazal

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ

Umair Najmi

55 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

More from Faisal Ajmi

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھروں آئینے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں گیا یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہمراہ کون ہے پوچھا کہاں گیا ہے بتایا کہاں گیا وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو برباد کر دیا ہے گنوایا کہاں گیا

Faisal Ajmi

0 likes

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا تو میرا سوال آواز تک نہیں گیا تو پھروں یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا تو مسلوب ہوں رہا تھا م گر ہن سے رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی لے کے خدا تک نہیں گیا تو جو برف گر رہی تھی مری سر کے آ سے پا سے کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا تو فیصل مکالمہ تھا ہواؤں کا پھول سے حقیقت شور تھا کہ مجھ سے سنا تک نہیں گیا تو

Faisal Ajmi

0 likes

تیری آنکھیں لگ رہیں آئی لگ خا لگ مری دوست کتنی تیزی سے بدلتا ہے زما لگ مری دوست جانے ک سے کام ہے وہ ہے وہ مصروف رہا برسوں تک یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مری دوست پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے آئی لگ بن کے میرا دل لگ دکھانا مری دوست ا سے ملاقات ہے وہ ہے وہ جو غیر ضروری ہوں جائے یاد رہتا ہے کسے ہاتھ ملانا مری دوست دیکھنا مجھ کو م گر مری پذیرائی کو اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ستارے تم لگ سجانا مری دوست اب حقیقت تتلی ہے لگ حقیقت عمر تعاقب والی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا بے حد دور لگ جانا مرے دوست ہجر تقدیر ہے وہ ہے وہ لکھا تھا کہ مجبوری تھی چھوڑ ا سے بات سے کیا ملنا ملانا مری دوست تو نے احسان کیا اپنا بنا کر مجھ کو ور لگ ہے وہ ہے وہ کیا تھا حقیقت لگ فسا لگ مری دوست ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ کسے کون ک ہاں چھوڑ گیا تو یاد آ جائے تو مجھ کو بھی بتانا مری دوست چھوڑ آیا ہوں ہواؤں کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمندر حقیقت جزیرہ حقیقت خزا لگ مری دوست ایسے رستوں پہ جو آپ سے ہے وہ ہے وہ کہی م

Faisal Ajmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faisal Ajmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faisal Ajmi's ghazal.