مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھروں آئینے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں گیا یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہمراہ کون ہے پوچھا کہاں گیا ہے بتایا کہاں گیا وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو برباد کر دیا ہے گنوایا کہاں گیا
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
More from Faisal Ajmi
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیا سے کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی رکتا ہوں م گر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تری جاتے ہی ہے وہ ہے وہ شکنوں سے لگ بھر جاؤں کہی کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے چاند ڈھلتا ہے تو ا سے کا بھی مجھے دکھ فیصل کسی قبا جاں نشانی کی طرح ہوتا ہے
Faisal Ajmi
0 likes
یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا تو میرا سوال آواز تک نہیں گیا تو پھروں یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا تو مسلوب ہوں رہا تھا م گر ہن سے رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی لے کے خدا تک نہیں گیا تو جو برف گر رہی تھی مری سر کے آ سے پا سے کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا تو فیصل مکالمہ تھا ہواؤں کا پھول سے حقیقت شور تھا کہ مجھ سے سنا تک نہیں گیا تو
Faisal Ajmi
0 likes
تیری آنکھیں لگ رہیں آئی لگ خا لگ مری دوست کتنی تیزی سے بدلتا ہے زما لگ مری دوست جانے ک سے کام ہے وہ ہے وہ مصروف رہا برسوں تک یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مری دوست پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے آئی لگ بن کے میرا دل لگ دکھانا مری دوست ا سے ملاقات ہے وہ ہے وہ جو غیر ضروری ہوں جائے یاد رہتا ہے کسے ہاتھ ملانا مری دوست دیکھنا مجھ کو م گر مری پذیرائی کو اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ستارے تم لگ سجانا مری دوست اب حقیقت تتلی ہے لگ حقیقت عمر تعاقب والی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا بے حد دور لگ جانا مرے دوست ہجر تقدیر ہے وہ ہے وہ لکھا تھا کہ مجبوری تھی چھوڑ ا سے بات سے کیا ملنا ملانا مری دوست تو نے احسان کیا اپنا بنا کر مجھ کو ور لگ ہے وہ ہے وہ کیا تھا حقیقت لگ فسا لگ مری دوست ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ کسے کون ک ہاں چھوڑ گیا تو یاد آ جائے تو مجھ کو بھی بتانا مری دوست چھوڑ آیا ہوں ہواؤں کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمندر حقیقت جزیرہ حقیقت خزا لگ مری دوست ایسے رستوں پہ جو آپ سے ہے وہ ہے وہ کہی م
Faisal Ajmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faisal Ajmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Faisal Ajmi's ghazal.







