تیری آنکھیں لگ رہیں آئی لگ خا لگ مری دوست کتنی تیزی سے بدلتا ہے زما لگ مری دوست جانے ک سے کام ہے وہ ہے وہ مصروف رہا برسوں تک یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مری دوست پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے آئی لگ بن کے میرا دل لگ دکھانا مری دوست ا سے ملاقات ہے وہ ہے وہ جو غیر ضروری ہوں جائے یاد رہتا ہے کسے ہاتھ ملانا مری دوست دیکھنا مجھ کو م گر مری پذیرائی کو اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ستارے تم لگ سجانا مری دوست اب حقیقت تتلی ہے لگ حقیقت عمر تعاقب والی ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا بے حد دور لگ جانا مرے دوست ہجر تقدیر ہے وہ ہے وہ لکھا تھا کہ مجبوری تھی چھوڑ ا سے بات سے کیا ملنا ملانا مری دوست تو نے احسان کیا اپنا بنا کر مجھ کو ور لگ ہے وہ ہے وہ کیا تھا حقیقت لگ فسا لگ مری دوست ا سے کہانی ہے وہ ہے وہ کسے کون ک ہاں چھوڑ گیا تو یاد آ جائے تو مجھ کو بھی بتانا مری دوست چھوڑ آیا ہوں ہواؤں کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمندر حقیقت جزیرہ حقیقت خزا لگ مری دوست ایسے رستوں پہ جو آپ سے ہے وہ ہے وہ کہی م
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے
Azhar Iqbal
61 likes
اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں
Varun Anand
63 likes
سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
Tehzeeb Hafi
91 likes
More from Faisal Ajmi
مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھروں آئینے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے گئے نہ پوچھ گھر آپ جل گیا ہے جلایا کہاں گیا یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ہمراہ کون ہے پوچھا کہاں گیا ہے بتایا کہاں گیا وہ بھی بدل گیا ہے مجھے چھوڑنے کے بعد مجھ سے بھی اپنے آپ میں آیا کہاں گیا تجھ کو گنوا دیا ہے مگر اپنے آپ کو برباد کر دیا ہے گنوایا کہاں گیا
Faisal Ajmi
0 likes
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیا سے کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی رکتا ہوں م گر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تری جاتے ہی ہے وہ ہے وہ شکنوں سے لگ بھر جاؤں کہی کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر خواب ہے وہ ہے وہ نقل مکانی کی طرح ہوتا ہے چاند ڈھلتا ہے تو ا سے کا بھی مجھے دکھ فیصل کسی قبا جاں نشانی کی طرح ہوتا ہے
Faisal Ajmi
0 likes
یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا تو میرا سوال آواز تک نہیں گیا تو پھروں یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا تو مسلوب ہوں رہا تھا م گر ہن سے رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشی لے کے خدا تک نہیں گیا تو جو برف گر رہی تھی مری سر کے آ سے پا سے کیا لکھ رہی تھی مجھ سے پڑھا تک نہیں گیا تو فیصل مکالمہ تھا ہواؤں کا پھول سے حقیقت شور تھا کہ مجھ سے سنا تک نہیں گیا تو
Faisal Ajmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faisal Ajmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Faisal Ajmi's ghazal.







