hui na raah men haael shikasta-pai miri 'qatil' ab bhi hai ik shakhs tak rasai miri uchhalte hain mire zikr se vo naam apna pasand hai mire yaron ko har burai miri ganva raha tha main kitne savab duniya ke janab-e-'ishq ne ki aa ke peshvai miri ab aur logon men jaae vo ghham ghhalat karne suna hai us ko gavara nahin judai miri hazar baar jo bad-nam kar chuka hai mujhe phir us ki khoj men nikli hai parsai miri bhatak raha huun main ik manzil-e-ziyan ke liye karoge rahzano tum hi rahnumai miri tamam bhed miri zindagi ke khol diye jo mutriba ne kisi ko ghhazal sunai miri bas ek baar shikan pad gai thi mathe par manane mujh ko javani kabhi na aai miri 'qatil' shukr karun jab bhi mujh pe tiir chale ba-faiz-e-'ishq tabi'at hai karbalai miri hui na rah mein hael shikasta-pai meri 'qatil' ab bhi hai ek shakhs tak rasai meri uchhaalte hain mere zikr se wo nam apna pasand hai mere yaron ko har burai meri ganwa raha tha main kitne sawab duniya ke janab-e-'ishq ne ki aa ke peshwai meri ab aur logon mein jae wo gham ghalat karne suna hai us ko gawara nahin judai meri hazar bar jo bad-nam kar chuka hai mujhe phir us ki khoj mein nikli hai parsai meri bhatak raha hun main ek manzil-e-ziyan ke liye karoge rahzano tum hi rahnumai meri tamam bhed meri zindagi ke khol diye jo mutriba ne kisi ko ghazal sunai meri bas ek bar shikan pad gai thi mathe par manane mujh ko jawani kabhi na aai meri 'qatil' shukr karun jab bhi mujh pe tir chale ba-faiz-e-'ishq tabi'at hai karbalai meri
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
More from Qateel Shifai
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ہے وہ ہے وہ گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تری دامن پر گرا کر بوند کو اندھیرا بنانا چاہتا ہوں تھک گیا تو ہے وہ ہے وہ کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے ہے وہ ہے وہ یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی ہے وہ ہے وہ اندھیرا روشنی کو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تری زانو پہ آئی موت بھی ہے وہ ہے وہ شاعرا لگ چاہتا ہوں
Qateel Shifai
6 likes
تتلیوں کا رنگ ہوں یا جھومتے بادل کا رنگ ہم نے ہر اک رنگ کو جانا تری آنچل کا رنگ تیری آنکھوں کی چمک ہے یا ستاروں کی ضیا رات کا ہے غپ اندھیرا یا تری کاجل کا رنگ دھڑکنوں کے تال پر حقیقت حال اپنے دل کا ہے چنو گوری کے تھرکتے پاؤں ہے وہ ہے وہ پائل کا رنگ پھینکنا جاناں سوچ کر لفظوں کا یہ کڑوا گلال پھیل جاتا ہے کبھی صدیوں پہ بھی اک پل کا رنگ آہ یہ رنگین موسم خون کی برسات کا چھا رہا ہے عقل پر جذبات کی ہلچل کا رنگ اب تو شبنم کا ہر اک اندھیرا ہے کنکر کی طرح ہاں اسی گلشن پہ چھایا تھا کبھی مخمل کا رنگ پھروں رہے ہیں لوگ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لیے خنجر کھلے کوچے کوچے ہے وہ ہے وہ اب آتا ہے نظر مقتل کا رنگ چار جانب ج سے کی رعنائی کے چرچے ہیں قتیل جانے کب سر و ساماں ہم ا سے آنے والی کل کا رنگ
Qateel Shifai
1 likes
رابطہ لاکھ صحیح قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے م گر سمے کی رفتار کے ساتھ غم لگے رہتے ہیں ہر آن خوشی کے پیچھے دشمنی دھوپ کی ہے سایہ دیوار کے ساتھ ک سے طرح اپنی محبت کی ہے وہ ہے وہ تکمیل کروں چارہ زندگی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ لفظ چنتا ہوں تو مفہوم بدل جاتا ہے اک لگ اک خوف بھی ہے جرات اظہار کے ساتھ دشمنی مجھ سے کیے جا م گر اپنا بن کر جان لے لے مری صیاد م گر پیار کے ساتھ دو گھڑی آؤ مل آئیں کسی تاکتے سے قتیل حضرت ذوق تو وابستہ ہیں دربار کے ساتھ
Qateel Shifai
2 likes
اپنے ہاتھوں کی لکیروں ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گر پھول تو جوڑے ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار لگ ڈالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر بھی ہوں اندھیرا بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی ہے وہ ہے وہ کہی تو لگ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو ہے وہ ہے وہ بانٹ لگ ڈالوں کہی دامن دامن کر دیا تو نے ا گر مری حوالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیاری تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے ہے وہ ہے وہ اب سا ر ہوں یا لگ ر ہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستاتا لے مجھ کو وعدہ پھروں وعد
Qateel Shifai
6 likes
کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں لگ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گواہ بنایا ہے سمے نے اپنا ب نام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے سمے کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ کیا ایک بھی نہیں منصور کہی گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں بجا کہ خو وفا ایک بھی حسین ہے وہ ہے وہ نہیں ک ہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں جو وصف ہم ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں کریں کسی ہے وہ ہے وہ تلاش ا گر ضمیر ہے منجملہ و اسباب ماتم آؤ سچ بولیں چھپائے سے کہی سیاہ بخت ہیں داغ چہرے کے نظر ہے آئی لگ بردار آؤ سچ بولیں قتیل جن پہ صدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے حقیقت گنہگار آؤ سچ بولیں
Qateel Shifai
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qateel Shifai.
Similar Moods
More moods that pair well with Qateel Shifai's ghazal.







