ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھوٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھروں بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز ا گر ہاتھ لگ آئی صاحب
Related Ghazal
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
سچ بتائیں تو شرم آتی ہے اور مطابق تو شرم آتی ہے ہم پہ احسان ہیں اداسی کے مسکرائیں تو شرم آتی ہے ہار کی ایسی عادتیں ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیت جائیں تو شرم آتی ہے ا سے کے آگے ہی ا سے کا بخشش ہوا سر اٹھائیں تو شرم آتی ہے عیش اوقات سے زیادہ کی اب مہلکہ تو شرم آتی ہے دھمکیاں خود کشی کی دیتے ہیں کر لگ پائیں تو شرم آتی ہے
Varun Anand
36 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Khurram Afaq
بات کرتے ہوئے بے خیالی ہے وہ ہے وہ زلفیں کھلی چھوڑ دی ہم نہتھوں پہ ا سے نے یہ کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دی ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹوٹا نہیں ا سے نے آنکھیں ا گر بند کر لیے تو با نہیں کھلے چھوڑ دی کیا انوکھا یقین تھا جو ا سے دن اتارا گیا تو شہر پر گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دکانیں کھلی چھوڑ دی مری آب ہے وہ ہے وہ ہوں کر بھی حقیقت اتنا سرکش ہے تو سوچیے کیا بنےگا ا گر ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی لگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی چھوڑ دی ج سے نے آتے ہوئے مری ترتیب پر اتنے جملے کسے ا سے نے جاتے ہوئے مری دل کی درازیں کھلے چھوڑ دی
Khurram Afaq
8 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کام بے حد ہے خزانے سے ا سے کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے ا سے کے یہی لگ ہوں کہ برق ہٹا لے حقیقت اپنی زیادہ دیر لگ بچنا نشانے سے ا سے کے حقیقت مجھ سے تازہ محبت پہ رازی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانی سے ا سے کے حقیقت تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے ا سے کے حقیقت چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خوش سرک رہا تھا میرا ہاتھ شانے سے ا سے کے
Khurram Afaq
3 likes
طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی حقیقت آپ تو کیا ا سے کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو ہوں گیا تو آباد حقیقت چہرہ کچھ بستیوں ہے وہ ہے وہ آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی حقیقت آگ بجھی تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم نے جھنجھوڑا ور لگ یہی لگتا تھا کہ سر گرا نہیں آئی شاید حقیقت محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی
Khurram Afaq
9 likes
جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے حقیقت خود تھوڑی آئےگا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے
Khurram Afaq
4 likes
دوا سے حل لگ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا بے حد خیال رکھا میرا اور درختوں کا پھروں ا سے نے دونوں کو آب و ہوا پہ چھوڑ دیا معاف حقیقت کریں جن کا قصور وار ہے تو عدالتوں نے تجھے ک سے بنا پہ چھوڑ دیا بغیر کچھ کہے ہے وہ ہے وہ نے پلٹنے کا سوچا اور ایک پھول در التجا پہ چھوڑ دیا
Khurram Afaq
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khurram Afaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Khurram Afaq's ghazal.







