طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی حقیقت آپ تو کیا ا سے کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو ہوں گیا تو آباد حقیقت چہرہ کچھ بستیوں ہے وہ ہے وہ آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی حقیقت آگ بجھی تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم نے جھنجھوڑا ور لگ یہی لگتا تھا کہ سر گرا نہیں آئی شاید حقیقت محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Khurram Afaq
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کام بے حد ہے خزانے سے ا سے کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے ا سے کے یہی لگ ہوں کہ برق ہٹا لے حقیقت اپنی زیادہ دیر لگ بچنا نشانے سے ا سے کے حقیقت مجھ سے تازہ محبت پہ رازی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانی سے ا سے کے حقیقت تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے ا سے کے حقیقت چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خوش سرک رہا تھا میرا ہاتھ شانے سے ا سے کے
Khurram Afaq
3 likes
جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے حقیقت خود تھوڑی آئےگا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے
Khurram Afaq
4 likes
بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تری ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو ا گر ہم جاناں اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں لگ ٹھہرے ا سے پہ آفاق شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں
Khurram Afaq
9 likes
بات کرتے ہوئے بے خیالی ہے وہ ہے وہ زلفیں کھلی چھوڑ دی ہم نہتھوں پہ ا سے نے یہ کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دی ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹوٹا نہیں ا سے نے آنکھیں ا گر بند کر لیے تو با نہیں کھلے چھوڑ دی کیا انوکھا یقین تھا جو ا سے دن اتارا گیا تو شہر پر گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دکانیں کھلی چھوڑ دی مری آب ہے وہ ہے وہ ہوں کر بھی حقیقت اتنا سرکش ہے تو سوچیے کیا بنےگا ا گر ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی لگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی چھوڑ دی ج سے نے آتے ہوئے مری ترتیب پر اتنے جملے کسے ا سے نے جاتے ہوئے مری دل کی درازیں کھلے چھوڑ دی
Khurram Afaq
8 likes
ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھوٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھروں بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز ا گر ہاتھ لگ آئی صاحب
Khurram Afaq
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khurram Afaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Khurram Afaq's ghazal.







