بات کرتے ہوئے بے خیالی ہے وہ ہے وہ زلفیں کھلی چھوڑ دی ہم نہتھوں پہ ا سے نے یہ کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دی ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹوٹا نہیں ا سے نے آنکھیں ا گر بند کر لیے تو با نہیں کھلے چھوڑ دی کیا انوکھا یقین تھا جو ا سے دن اتارا گیا تو شہر پر گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دکانیں کھلی چھوڑ دی مری آب ہے وہ ہے وہ ہوں کر بھی حقیقت اتنا سرکش ہے تو سوچیے کیا بنےگا ا گر ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی لگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی چھوڑ دی ج سے نے آتے ہوئے مری ترتیب پر اتنے جملے کسے ا سے نے جاتے ہوئے مری دل کی درازیں کھلے چھوڑ دی
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Khurram Afaq
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کام بے حد ہے خزانے سے ا سے کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے ا سے کے یہی لگ ہوں کہ برق ہٹا لے حقیقت اپنی زیادہ دیر لگ بچنا نشانے سے ا سے کے حقیقت مجھ سے تازہ محبت پہ رازی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانی سے ا سے کے حقیقت تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے ا سے کے حقیقت چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خوش سرک رہا تھا میرا ہاتھ شانے سے ا سے کے
Khurram Afaq
3 likes
جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے حقیقت خود تھوڑی آئےگا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے
Khurram Afaq
4 likes
طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی حقیقت آپ تو کیا ا سے کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو ہوں گیا تو آباد حقیقت چہرہ کچھ بستیوں ہے وہ ہے وہ آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی حقیقت آگ بجھی تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم نے جھنجھوڑا ور لگ یہی لگتا تھا کہ سر گرا نہیں آئی شاید حقیقت محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی
Khurram Afaq
9 likes
بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تری ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو ا گر ہم جاناں اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں لگ ٹھہرے ا سے پہ آفاق شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں
Khurram Afaq
9 likes
ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھوٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھروں بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز ا گر ہاتھ لگ آئی صاحب
Khurram Afaq
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khurram Afaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Khurram Afaq's ghazal.







