ghazalKuch Alfaaz

جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے حقیقت خود تھوڑی آئےگا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے

Related Ghazal

شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا

Tehzeeb Hafi

84 likes

किस तरफ़ को चलती है अब हवा नहीं मालूम हाथ उठा लिए सबने और दुआ नहीं मालूम मौसमों के चेहरों से ज़र्दियाँ नहीं जाती फूल क्यूँँ नहीं लगते ख़ुश-नुमा नहीं मालूम रहबरों के तेवर भी रहज़नों से लगते हैं कब कहाँ पे लुट जाए क़ाफ़िला नहीं मालूम सर्व तो गई रुत में क़ामतें गँवा बैठे क़ुमरियाँ हुईं कैसे बे-सदा नहीं मालूम आज सब को दावा है अपनी अपनी चाहत का कौन किस से होता है कल जुदा नहीं मालूम मंज़रों की तब्दीली बस नज़र में रहती है हम भी होते जाते हैं क्या से क्या नहीं मालूम हम 'फ़राज़' शे'रों से दिल के ज़ख़्म भरते हैं क्या करें मसीहा को जब दवा नहीं मालूम

Ahmad Faraz

46 likes

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

ہاں یہ سچ ہے کہ محبت نہیں کی دوست ب سے مری طبیعت نہیں کی ا سے لیے گاؤں ہے وہ ہے وہ سیلاب آیا ہم نے دریاو کی عزت نہیں کی جسم تک ا سے نے مجھے سونپ دیا دل نے ا سے پر بھی کنایت نہیں کی مری اعزاز ہے وہ ہے وہ رکھی گئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے بزم ہے وہ ہے وہ شراکت نہیں کی یاد بھی یاد سے رکھا اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ بھی غفلت نہیں کی اس کا کا کو دیکھا تھا غضب حالت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں کبھی ا سے کی حفاظت نہیں کی ہم ا گر فتح ہوئے ہے تو کیا عشق نے ک سے پہ حکومت نہیں کی

Tehzeeb Hafi

74 likes

More from Khurram Afaq

ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کام بے حد ہے خزانے سے ا سے کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے ا سے کے یہی لگ ہوں کہ برق ہٹا لے حقیقت اپنی زیادہ دیر لگ بچنا نشانے سے ا سے کے حقیقت مجھ سے تازہ محبت پہ رازی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانی سے ا سے کے حقیقت تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے ا سے کے حقیقت چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خوش سرک رہا تھا میرا ہاتھ شانے سے ا سے کے

Khurram Afaq

3 likes

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھوٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھروں بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز ا گر ہاتھ لگ آئی صاحب

Khurram Afaq

5 likes

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی حقیقت آپ تو کیا ا سے کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو ہوں گیا تو آباد حقیقت چہرہ کچھ بستیوں ہے وہ ہے وہ آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی حقیقت آگ بجھی تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم نے جھنجھوڑا ور لگ یہی لگتا تھا کہ سر گرا نہیں آئی شاید حقیقت محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی

Khurram Afaq

9 likes

بات کرتے ہوئے بے خیالی ہے وہ ہے وہ زلفیں کھلی چھوڑ دی ہم نہتھوں پہ ا سے نے یہ کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دی ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹوٹا نہیں ا سے نے آنکھیں ا گر بند کر لیے تو با نہیں کھلے چھوڑ دی کیا انوکھا یقین تھا جو ا سے دن اتارا گیا تو شہر پر گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دکانیں کھلی چھوڑ دی مری آب ہے وہ ہے وہ ہوں کر بھی حقیقت اتنا سرکش ہے تو سوچیے کیا بنےگا ا گر ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی لگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی چھوڑ دی ج سے نے آتے ہوئے مری ترتیب پر اتنے جملے کسے ا سے نے جاتے ہوئے مری دل کی درازیں کھلے چھوڑ دی

Khurram Afaq

8 likes

دوا سے حل لگ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا بے حد خیال رکھا میرا اور درختوں کا پھروں ا سے نے دونوں کو آب و ہوا پہ چھوڑ دیا معاف حقیقت کریں جن کا قصور وار ہے تو عدالتوں نے تجھے ک سے بنا پہ چھوڑ دیا بغیر کچھ کہے ہے وہ ہے وہ نے پلٹنے کا سوچا اور ایک پھول در التجا پہ چھوڑ دیا

Khurram Afaq

6 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Khurram Afaq.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Khurram Afaq's ghazal.