ghazalKuch Alfaaz

بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تری ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو ا گر ہم جاناں اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں لگ ٹھہرے ا سے پہ آفاق شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں

Related Ghazal

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Khurram Afaq

ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کام بے حد ہے خزانے سے ا سے کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے ا سے کے یہی لگ ہوں کہ برق ہٹا لے حقیقت اپنی زیادہ دیر لگ بچنا نشانے سے ا سے کے حقیقت مجھ سے تازہ محبت پہ رازی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانی سے ا سے کے حقیقت تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے ا سے کے حقیقت چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں خوش سرک رہا تھا میرا ہاتھ شانے سے ا سے کے

Khurram Afaq

3 likes

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی حقیقت آپ تو کیا ا سے کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو ہوں گیا تو آباد حقیقت چہرہ کچھ بستیوں ہے وہ ہے وہ آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی حقیقت آگ بجھی تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسم نے جھنجھوڑا ور لگ یہی لگتا تھا کہ سر گرا نہیں آئی شاید حقیقت محبت کے لیے ٹھیک نہیں تھا شاید یہ انگوٹھی اسے پوری نہیں آئی

Khurram Afaq

9 likes

جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے حقیقت خود تھوڑی آئےگا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے

Khurram Afaq

4 likes

بات کرتے ہوئے بے خیالی ہے وہ ہے وہ زلفیں کھلی چھوڑ دی ہم نہتھوں پہ ا سے نے یہ کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دی ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹوٹا نہیں ا سے نے آنکھیں ا گر بند کر لیے تو با نہیں کھلے چھوڑ دی کیا انوکھا یقین تھا جو ا سے دن اتارا گیا تو شہر پر گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دکانیں کھلی چھوڑ دی مری آب ہے وہ ہے وہ ہوں کر بھی حقیقت اتنا سرکش ہے تو سوچیے کیا بنےگا ا گر ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی لگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلی چھوڑ دی ج سے نے آتے ہوئے مری ترتیب پر اتنے جملے کسے ا سے نے جاتے ہوئے مری دل کی درازیں کھلے چھوڑ دی

Khurram Afaq

8 likes

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھوٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر ہے وہ ہے وہ کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھروں بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز ا گر ہاتھ لگ آئی صاحب

Khurram Afaq

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Khurram Afaq.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Khurram Afaq's ghazal.