ghazalKuch Alfaaz

انتہا تک بات لے جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب اسے ایسے ہی سمجھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ ہوا کچھ دل دھڑکنے کی صدا شور ہے وہ ہے وہ کچھ سن نہیں پاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بن کہے آؤںگا جب بھی آؤںگا منتظر آنکھوں سے افسا لگ ہستی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد آتی ہے تری سنجیدگی اور پھروں ہنستا چلا جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فاصلہ رکھ کے بھی کیا حاصل ہوا آج بھی ا سے کا ہی کہلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپ رہا ہوں آئینے کی آنکھ سے تھوڑا تھوڑا روز دھندلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ساری شان کھو دیتا ہے زخم جب دوا کرتا نظر آتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ تو یہ ہے مسترد کر کے اسے اک طرح سے خود کو جھٹلاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ا سے پر بھی بھٹکنا پڑ گیا تو روز ج سے رستے سے گھر آتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Shariq Kaifi

خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا سمے آ ہی گیا تو ا سے تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر ج سے کے مشوروں پہ چلے حقیقت پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا سمے ا سے کو نہیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنے کی فرصت ہے ا سے پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیں ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جتنی حیرت ہے

Shariq Kaifi

1 likes

تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے کہ سارا کھیل ا سے امید پر ہی چلنا ہے قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی ہے وہ ہے وہ تو پھروں ی ہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے رہے ہوں ساتھ تو کچھ سمے اور دے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے لوٹ کے ب سے اب تو گھر ہی چلنا ہے مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوں تمہاری سمت ا گر عمر بھر ہی چلنا ہے کوئی امید نہیں کھڑ کیوں کو بند کروں کہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے ذرا سا قرب میسر تو آئی ا سے کا مجھے کہ ا سے کے بعد زبان کا ہنر ہی چلنا ہے

Shariq Kaifi

8 likes

خیال سا ہے کہ تو سامنے کھڑا تھا ابھی غنودگی ہے وہ ہے وہ ہوں شاید ہے وہ ہے وہ سو گیا تو تھا ابھی پھروں ا سے کی شکل خیالوں ہے وہ ہے وہ صاف بننے لگی یہ مسئلہ تو وہی ہے جو حل ہوا تھا ابھی سنا ہے پھروں کوئی مجھ کو بچانا چاہتا ہے کسی طرح تو میرا فیصلہ ہوا تھا ابھی یہیں کھڑا تھا حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کتنے خواب لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ا سے کا نیا گھر دکھا رہا تھا ابھی اسی کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا تو کچھ لگ تھا معلوم اسی کے بارے ہے وہ ہے وہ اتنا کہا سنا تھا ابھی

Shariq Kaifi

4 likes

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے اپنے ماحول ہے وہ ہے وہ خود کو دیکھے ہوئے ایک دن ہم اچانک بڑے ہوں گئے کھیل ہے وہ ہے وہ دوڑ کر ا سے کو چھوتے ہوئے سب گزرنے رہے صف بہ صف پا سے سے مری سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے چنو یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھول ایک کونے ہے وہ ہے وہ ہم بھی ہیں رکھے ہوئے شرم تو آئی لیکن خوشی بھی ہوئی اپنا دکھ ا سے کے چہرے پہ پیسہ ہوئے ب سے بے حد ہوں چکا آئینے سے گلہ دیکھ لےگا کوئی خود سے ملتے ہوئے زندگی بھر رہے ہیں اندھیرے ہے وہ ہے وہ ہم روشنی سے پریشان ہوتے ہوئے

Shariq Kaifi

4 likes

گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے

Shariq Kaifi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shariq Kaifi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.