عشق کا نغمہ جنوں کے ساز پر گاتے ہیں ہم اپنے غم کی آنچ سے پتھر کو پگھلاتے ہیں ہم جاگ اٹھتے ہیں تو سولی پر بھی نیند آتی نہیں سمے پڑ جائے تو انگاروں پہ سو جاتے ہیں ہم زندگی کو ہم سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے پیار اور ا گر مرنے پہ آ جائیں تو مر جاتے ہیں ہم دفن ہوں کر خاک ہے وہ ہے وہ بھی دفن رہ سکتے نہیں لالا و گل بن کے ویرانوں پہ چھا جاتے ہیں ہم ہم کہ کرتے ہیں چمن ہے وہ ہے وہ اہتمام رنگ و بو رو گیتی سے نقاب حسن سرکاتے ہیں ہم عک سے پڑتے ہی سنور جاتے ہیں چہرے کے نقوش شاہد ہستی کو یوں آئی لگ دکھلاتے ہیں ہم مے کشوں کو مجدہ نوید صدیوں کے پیاسوں کو گرد کارواں اپنی محفل اپنا ساقی لے کے اب آتے ہیں ہم
Related Ghazal
بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے
Kumar Vishwas
56 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Ali Sardar Jafri
عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں گل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی
Ali Sardar Jafri
0 likes
اب آ گیا تو ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاویداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ زندگی کی بارات کوئی چراغ سر رہگزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل گراں ہے مرحلہ عمر گیت گاتا جا بلا سے بزم ہے وہ ہے وہ گر ذوق نغمگی کم ہے نوا تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا جو ہوں سکے تو بدل زندگی کو خود ور لگ نزاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا دکھا کے جلوہ فردا بنا دے دیوا لگ نئے زمانے کے رکھ سے نقاب اٹھاتا جا بے حد دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں ادا سے کوئی ترا لگ کوئی داستان سناتا جا
Ali Sardar Jafri
0 likes
عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں غل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی یہ نغمہ نغمہ بیداری جمہور عالم ہے حقیقت شمشیر نوا ج سے کی درخشانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی
Ali Sardar Jafri
0 likes
ظلم کی کچھ میعاد نہیں ہے داد نہیں پڑنا نہیں ہے قتل ہوئے ہیں اب تک کتنے کوئے ستم کو یاد نہیں ہے آخر روئیں ک سے کو ک سے کو کون ہے جو برباد نہیں ہے قید چمن بھی بن جاتا ہے مرغ چمن آزاد نہیں ہے لطف ہی کیا گر اپنے مقابل سطوت برق و باد نہیں ہے سب ہوں شاداں سب ہوں خنداں تنہا کوئی شاد نہیں ہے دعوت رنگ و نکہت ہے یہ خندہ گل برباد نہیں ہے
Ali Sardar Jafri
0 likes
ساقی و مینا لیے لغزش مستا لگ لیے آئی ہم بزم ہے وہ ہے وہ پھروں جرأت رندا لگ لیے عشق پہلو ہے وہ ہے وہ ہے پھروں حصار دل خود سر لیے زلف اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ پیما لگ لیے یاد کرتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونق مے خا لگ کا ہجوم اٹھ گئے تھے جو کبھی آفتاب رکھ محبوب لیے وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہے دور عوام کا نذرا لگ لیے عصر حاضر کو مبارک ہوں نیا سر شوکت شاہا لگ اپنی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ رقصا لیے
Ali Sardar Jafri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's ghazal.







