ghazalKuch Alfaaz

ishq ki ik rangin sada par barse rang rang ho majnun aur laila par barse rang kab tak chunri par hi zulm hon rangon ke rangreza teri bhi qaba par barse rang khvab bharen tiri ankhen meri ankhon men ek ghata se ek ghata par barse rang ik satrangi khushbu odh ke nikle tu is be-rang udaas hava par barse rang ai devi rukhsar pe tere rang lage jogi ki almast jata par barse rang mere anasir khaak na hon bas rang banen aur jangal sahra dariya par barse rang suraj apne par jhatke aur subh ude niind nahai is duniya par barse rang ishq ki ek rangin sada par barse rang rang ho majnun aur laila par barse rang kab tak chunri par hi zulm hon rangon ke rangreza teri bhi qaba par barse rang khwab bharen teri aankhen meri aankhon mein ek ghata se ek ghata par barse rang ek satrangi khushbu odh ke nikle tu is be-rang udas hawa par barse rang ai dewi rukhsar pe tere rang lage jogi ki almast jata par barse rang mere anasir khak na hon bas rang banen aur jangal sahra dariya par barse rang suraj apne par jhatke aur subh ude nind nahai is duniya par barse rang

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

More from Swapnil Tiwari

یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا

Swapnil Tiwari

2 likes

نیند سے آ کر بیٹھا ہے خواب مری گھر بیٹھا ہے عک سے میرا آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے کر پتھر بیٹھا ہے پلکیں جھکی ہیں صحرا کی ج سے پہ سمندر بیٹھا ہے ایک بگولا یادوں کا کھا کر چکر بیٹھا ہے ا سے کی نیندوں پر اک خواب تتلی بن کر بیٹھا ہے رات کی ٹیبل بک کر کے چاند ڈنر پر بیٹھا ہے اندھیارا خموشی کی اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے آتش دھوپ گئی کب کی گھر ہے وہ ہے وہ کیونکر بیٹھا ہے

Swapnil Tiwari

2 likes

یہ دھوپ گری ہے جو مری لان ہے وہ ہے وہ آ کر لے جائے گی جل گرا ہی اسے شام اٹھا کر سینے ہے وہ ہے وہ چھپا شام کی آنکھوں سے بچا کر اک لہر کو ہم لائے سمندر سے اٹھا کر ہاں سمے سے پہلے ہی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دےگی اسے صبح رکھی لگ گئی چاند سے گر شب یہ دبا کر اک صبح بھلی سی مری نزدیک سے گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ بیٹھا رہا ہجر کی اک رات بچھا کر پھروں صبح سے ہی آج الم دیکھ رہے ہیں یادوں کی کوئی فلم مری دل ہے وہ ہے وہ چلا کر پھروں چائے ہے وہ ہے وہ بسکٹ کی طرح بھوکھی سی یہ شام کھا جائے گی سورج کو سمندر ہے وہ ہے وہ ڈوبا کر

Swapnil Tiwari

0 likes

دھوپ کے بھیتر چھپ کر نکلی تاریکی سائے بھر نکلی رات گری تھی اک گڈھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام کا ہاتھ پکڑ کر نکلی رویا ا سے سے مل کر رویا چاہت بھی سے بدل کر نکلی پھول تو پھولوں سا ہونا تھا تتلی کیسی پتھر نکلی سوت ہیں گھر کے ہر کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مکڑی پوری بُن کر نکلی تازہ دم ہونے کو اداسی لے کر غم کا شاور نکلی جاں نکلی ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی میرا مگہر نکلی ہجر کی شب سے گھبراتے تھے یار یہی شب بہتر نکلی جب بھی چور مری گھر آئی ایک ہنسی ہی زیور نکلی آتش کندن روح ملی ہے عمر کی آگ ہے وہ ہے وہ جل کر نکلی

Swapnil Tiwari

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Swapnil Tiwari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.