جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے خط ک سے لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے ک سے واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ میرا نام ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے للہ شب و روز کی الجھن سے نکالو جاناں مری نہیں ہوں تو بتا کیوں نہیں دیتے رہ رہ کے لگ تڑپاو اے بے درد مسیحا ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے جب ا سے کی وفاؤں پہ یقین جاناں کو نہیں ہے حسرت کو نگا ہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Hasrat Jaipuri
ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں حقیقت غیر کی بان ہوں ہے وہ ہے وہ آرام سے سوتے ہیں ہم خوشی جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے بےچین سی پلکوں ہے وہ ہے وہ اندھیرا سے پروتے ہیں ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچائی کی را ہوں ہے وہ ہے وہ کانٹے سبھی بوتے ہیں انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرت ملنے کو تو ملتے ہیں چشم مے فروش سے چبھوتے ہیں
Hasrat Jaipuri
4 likes
شعلہ ہی صحیح آگ لگانے کے لیے آ پھروں نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ یہ ک سے نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا تو زلف کی کملی ہے وہ ہے وہ چھپانے کے لیے آ دیوار ہے دنیا اسے را ہوں سے ہٹا دے ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ زار تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے حسرت کی قسم دل ہی دکھانے کے لیے آ
Hasrat Jaipuri
6 likes
ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھوں سے چھلکی شراب پیتا ہوں غریب ہوں کے بھی مہنگی شراب پیتا ہوں مجھے نشے ہے وہ ہے وہ بہکتے کبھی نہیں دیکھا حقیقت جانتا ہے ہے وہ ہے وہ کتنی شراب پیتا ہوں اسے بھی دیکھوں تو پہچاننے ہے وہ ہے وہ دیر لگے کبھی کبھی تو ہے وہ ہے وہ اتنی شراب پیتا ہوں پرانی چاہنے والوں کی یاد آنے لگے اسی لیے ہے وہ ہے وہ پرانی شراب پیتا ہوں
Hasrat Jaipuri
10 likes
یہ کون آ گئی دلربا مہکی مہکی فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل حقیقت بالوں ہے وہ ہے وہ گجرا ہتھیلی پہ ا سے کے حنا مہکی مہکی خدا جانے ک سے ک سے کی یہ جان لےگی حقیقت قاتل ادا حقیقت قضا مہکی مہکی سویرے سویرے مری گھر پہ آئی اے حسرت حقیقت باد صبا مہکی مہکی
Hasrat Jaipuri
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Jaipuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Jaipuri's ghazal.







