شعلہ ہی صحیح آگ لگانے کے لیے آ پھروں نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ یہ ک سے نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا تو زلف کی کملی ہے وہ ہے وہ چھپانے کے لیے آ دیوار ہے دنیا اسے را ہوں سے ہٹا دے ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ زار تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے حسرت کی قسم دل ہی دکھانے کے لیے آ
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Abbas Qamar
46 likes
More from Hasrat Jaipuri
ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھوں سے چھلکی شراب پیتا ہوں غریب ہوں کے بھی مہنگی شراب پیتا ہوں مجھے نشے ہے وہ ہے وہ بہکتے کبھی نہیں دیکھا حقیقت جانتا ہے ہے وہ ہے وہ کتنی شراب پیتا ہوں اسے بھی دیکھوں تو پہچاننے ہے وہ ہے وہ دیر لگے کبھی کبھی تو ہے وہ ہے وہ اتنی شراب پیتا ہوں پرانی چاہنے والوں کی یاد آنے لگے اسی لیے ہے وہ ہے وہ پرانی شراب پیتا ہوں
Hasrat Jaipuri
10 likes
ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں حقیقت غیر کی بان ہوں ہے وہ ہے وہ آرام سے سوتے ہیں ہم خوشی جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے بےچین سی پلکوں ہے وہ ہے وہ اندھیرا سے پروتے ہیں ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچائی کی را ہوں ہے وہ ہے وہ کانٹے سبھی بوتے ہیں انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرت ملنے کو تو ملتے ہیں چشم مے فروش سے چبھوتے ہیں
Hasrat Jaipuri
4 likes
یہ کون آ گئی دلربا مہکی مہکی فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل حقیقت بالوں ہے وہ ہے وہ گجرا ہتھیلی پہ ا سے کے حنا مہکی مہکی خدا جانے ک سے ک سے کی یہ جان لےگی حقیقت قاتل ادا حقیقت قضا مہکی مہکی سویرے سویرے مری گھر پہ آئی اے حسرت حقیقت باد صبا مہکی مہکی
Hasrat Jaipuri
1 likes
جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے خط ک سے لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے ک سے واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ میرا نام ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے للہ شب و روز کی الجھن سے نکالو جاناں مری نہیں ہوں تو بتا کیوں نہیں دیتے رہ رہ کے لگ تڑپاو اے بے درد مسیحا ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے جب ا سے کی وفاؤں پہ یقین جاناں کو نہیں ہے حسرت کو نگا ہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
Hasrat Jaipuri
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Jaipuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Jaipuri's ghazal.







