یہ کون آ گئی دلربا مہکی مہکی فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل حقیقت بالوں ہے وہ ہے وہ گجرا ہتھیلی پہ ا سے کے حنا مہکی مہکی خدا جانے ک سے ک سے کی یہ جان لےگی حقیقت قاتل ادا حقیقت قضا مہکی مہکی سویرے سویرے مری گھر پہ آئی اے حسرت حقیقت باد صبا مہکی مہکی
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
ب سے اک اسی پہ تو پوری طرح ایاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ رہا ہے مجھے رایگاں تو ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے دکھائی دوں مری طرف اشارہ کرے مجھے دکھائی نہیں دے رہا روویج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے سڑک سے نیچے بنایا گیا تو مکان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی نے پوچھا کہ جاناں کون ہوں تو بھول گیا تو ابھی کسی نے بتایا تو تھا شہر خاموشاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ تو ب سے نشان لگا دے ج ہاں ج ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط ج ہاں سے کوئی گزرتا نہیں و ہاں ہوں ہے وہ ہے وہ
Umair Najmi
55 likes
کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہوں سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہوں سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی بے وجہ کے ہوں کر رہ جائیں حقیقت بھی صرف ہمارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے ہوں سکتا ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے وہ چا ہوں بول نا مری یارا کیسے ہوں سکتا ہے
Jawwad Sheikh
39 likes
More from Hasrat Jaipuri
ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں حقیقت غیر کی بان ہوں ہے وہ ہے وہ آرام سے سوتے ہیں ہم خوشی جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے بےچین سی پلکوں ہے وہ ہے وہ اندھیرا سے پروتے ہیں ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچائی کی را ہوں ہے وہ ہے وہ کانٹے سبھی بوتے ہیں انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرت ملنے کو تو ملتے ہیں چشم مے فروش سے چبھوتے ہیں
Hasrat Jaipuri
4 likes
شعلہ ہی صحیح آگ لگانے کے لیے آ پھروں نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ یہ ک سے نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا تو زلف کی کملی ہے وہ ہے وہ چھپانے کے لیے آ دیوار ہے دنیا اسے را ہوں سے ہٹا دے ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ زار تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے حسرت کی قسم دل ہی دکھانے کے لیے آ
Hasrat Jaipuri
6 likes
ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھوں سے چھلکی شراب پیتا ہوں غریب ہوں کے بھی مہنگی شراب پیتا ہوں مجھے نشے ہے وہ ہے وہ بہکتے کبھی نہیں دیکھا حقیقت جانتا ہے ہے وہ ہے وہ کتنی شراب پیتا ہوں اسے بھی دیکھوں تو پہچاننے ہے وہ ہے وہ دیر لگے کبھی کبھی تو ہے وہ ہے وہ اتنی شراب پیتا ہوں پرانی چاہنے والوں کی یاد آنے لگے اسی لیے ہے وہ ہے وہ پرانی شراب پیتا ہوں
Hasrat Jaipuri
10 likes
جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے خط ک سے لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے ک سے واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ میرا نام ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے للہ شب و روز کی الجھن سے نکالو جاناں مری نہیں ہوں تو بتا کیوں نہیں دیتے رہ رہ کے لگ تڑپاو اے بے درد مسیحا ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے جب ا سے کی وفاؤں پہ یقین جاناں کو نہیں ہے حسرت کو نگا ہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
Hasrat Jaipuri
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Jaipuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Jaipuri's ghazal.







