ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں حقیقت غیر کی بان ہوں ہے وہ ہے وہ آرام سے سوتے ہیں ہم خوشی جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے بےچین سی پلکوں ہے وہ ہے وہ اندھیرا سے پروتے ہیں ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچائی کی را ہوں ہے وہ ہے وہ کانٹے سبھی بوتے ہیں انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرت ملنے کو تو ملتے ہیں چشم مے فروش سے چبھوتے ہیں
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
More from Hasrat Jaipuri
ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھوں سے چھلکی شراب پیتا ہوں غریب ہوں کے بھی مہنگی شراب پیتا ہوں مجھے نشے ہے وہ ہے وہ بہکتے کبھی نہیں دیکھا حقیقت جانتا ہے ہے وہ ہے وہ کتنی شراب پیتا ہوں اسے بھی دیکھوں تو پہچاننے ہے وہ ہے وہ دیر لگے کبھی کبھی تو ہے وہ ہے وہ اتنی شراب پیتا ہوں پرانی چاہنے والوں کی یاد آنے لگے اسی لیے ہے وہ ہے وہ پرانی شراب پیتا ہوں
Hasrat Jaipuri
10 likes
شعلہ ہی صحیح آگ لگانے کے لیے آ پھروں نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ یہ ک سے نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا تو زلف کی کملی ہے وہ ہے وہ چھپانے کے لیے آ دیوار ہے دنیا اسے را ہوں سے ہٹا دے ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ زار تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے حسرت کی قسم دل ہی دکھانے کے لیے آ
Hasrat Jaipuri
6 likes
یہ کون آ گئی دلربا مہکی مہکی فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی حقیقت آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل حقیقت بالوں ہے وہ ہے وہ گجرا ہتھیلی پہ ا سے کے حنا مہکی مہکی خدا جانے ک سے ک سے کی یہ جان لےگی حقیقت قاتل ادا حقیقت قضا مہکی مہکی سویرے سویرے مری گھر پہ آئی اے حسرت حقیقت باد صبا مہکی مہکی
Hasrat Jaipuri
1 likes
جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے خط ک سے لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے ک سے واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ میرا نام ہے وہ ہے وہ ہے وہ حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے للہ شب و روز کی الجھن سے نکالو جاناں مری نہیں ہوں تو بتا کیوں نہیں دیتے رہ رہ کے لگ تڑپاو اے بے درد مسیحا ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے جب ا سے کی وفاؤں پہ یقین جاناں کو نہیں ہے حسرت کو نگا ہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
Hasrat Jaipuri
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hasrat Jaipuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hasrat Jaipuri's ghazal.







