جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھروں بدن اور کہیں کام ہے وہ ہے وہ لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ جاناں ہوں تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تری جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے حقیقت جان نہ لے اور پھروں جبر تو یہ ہے کہ بتانا ہے مجھے مانگ لیتا ہوں تری غم سے ذرا سرداری ایک دنیا ہے جسے دل سے اٹھانا ہے مجھے
Related Ghazal
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Vipul Kumar
شہر چھوؤں گا سے حقیقت باریک سڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اک پاؤں ٹکاتا ہوں تڑک جاتی ہے اور پیوسٹ ہوا جاتا ہے پتھر ہے وہ ہے وہ چراغ لگ کے ا سے ہاتھ سے لو اور بھڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا چور نہیں ہوں م گر ا سے کوچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل دھڑک جاتا ہے پا پوش کھڑک جاتی ہے پھول خوشبو سے بگڑتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لے چل اور جھونکے سے حقیقت دامن کو جھڑک جاتی ہے خواب کا رزق ہوئی جاتی ہے بیداری کی عمر نیند کیا چیز ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ رڑک جاتی ہے
Vipul Kumar
2 likes
سمے کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات ک سے پہ خرچی ہے بتا مری کمائی ہوئی رات اور پھروں یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بتائی ہوئی رات ہجر کے بن ہے وہ ہے وہ ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا تو عسرت رم سے بہر حال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو ک ہاں جاتی مری جسم پہ آئی ہوئی رات دل کو چین آیا تو اٹھنے لگا تاروں کا غمدیدہ صبح لے نکلی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات اور پھروں نیند ہی آئی لگ کوئی خواب آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہی تھی مری خواب ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات
Vipul Kumar
4 likes
فرض سپردگی ہے وہ ہے وہ تقاضے نہیں ہوئے تری ک ہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہوں بھی گئے وصول چنو تری سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے ا سے کے بدن کا موڈ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر ہے وہ ہے وہ عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے ہوں گئے اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے ہم آ کے تیری بزم ہے وہ ہے وہ بے شک ہوئے ذلیل جتنے گناہگار تھے اتنے نہیں ہوئے ا سے بار جنگ ا سے سے رعونت کی تھی سو ہم اپنی انا کے ہوں گئے ا سے کے نہیں ہوئے
Vipul Kumar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vipul Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Vipul Kumar's ghazal.







