ghazalKuch Alfaaz

فرض سپردگی ہے وہ ہے وہ تقاضے نہیں ہوئے تری ک ہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہوں بھی گئے وصول چنو تری سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے ا سے کے بدن کا موڈ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر ہے وہ ہے وہ عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے ہوں گئے اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے ہم آ کے تیری بزم ہے وہ ہے وہ بے شک ہوئے ذلیل جتنے گناہگار تھے اتنے نہیں ہوئے ا سے بار جنگ ا سے سے رعونت کی تھی سو ہم اپنی انا کے ہوں گئے ا سے کے نہیں ہوئے

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Vipul Kumar

شہر چھوؤں گا سے حقیقت باریک سڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اک پاؤں ٹکاتا ہوں تڑک جاتی ہے اور پیوسٹ ہوا جاتا ہے پتھر ہے وہ ہے وہ چراغ لگ کے ا سے ہاتھ سے لو اور بھڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا چور نہیں ہوں م گر ا سے کوچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل دھڑک جاتا ہے پا پوش کھڑک جاتی ہے پھول خوشبو سے بگڑتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لے چل اور جھونکے سے حقیقت دامن کو جھڑک جاتی ہے خواب کا رزق ہوئی جاتی ہے بیداری کی عمر نیند کیا چیز ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ رڑک جاتی ہے

Vipul Kumar

2 likes

سمے کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات ک سے پہ خرچی ہے بتا مری کمائی ہوئی رات اور پھروں یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بتائی ہوئی رات ہجر کے بن ہے وہ ہے وہ ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا تو عسرت رم سے بہر حال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو ک ہاں جاتی مری جسم پہ آئی ہوئی رات دل کو چین آیا تو اٹھنے لگا تاروں کا غمدیدہ صبح لے نکلی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات اور پھروں نیند ہی آئی لگ کوئی خواب آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہی تھی مری خواب ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات

Vipul Kumar

4 likes

جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھروں بدن اور کہیں کام ہے وہ ہے وہ لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ جاناں ہوں تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تری جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے حقیقت جان نہ لے اور پھروں جبر تو یہ ہے کہ بتانا ہے مجھے مانگ لیتا ہوں تری غم سے ذرا سرداری ایک دنیا ہے جسے دل سے اٹھانا ہے مجھے

Vipul Kumar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vipul Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vipul Kumar's ghazal.