شہر چھوؤں گا سے حقیقت باریک سڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اک پاؤں ٹکاتا ہوں تڑک جاتی ہے اور پیوسٹ ہوا جاتا ہے پتھر ہے وہ ہے وہ چراغ لگ کے ا سے ہاتھ سے لو اور بھڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا چور نہیں ہوں م گر ا سے کوچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل دھڑک جاتا ہے پا پوش کھڑک جاتی ہے پھول خوشبو سے بگڑتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لے چل اور جھونکے سے حقیقت دامن کو جھڑک جاتی ہے خواب کا رزق ہوئی جاتی ہے بیداری کی عمر نیند کیا چیز ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ رڑک جاتی ہے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Vipul Kumar
سمے کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات ک سے پہ خرچی ہے بتا مری کمائی ہوئی رات اور پھروں یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بتائی ہوئی رات ہجر کے بن ہے وہ ہے وہ ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا تو عسرت رم سے بہر حال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو ک ہاں جاتی مری جسم پہ آئی ہوئی رات دل کو چین آیا تو اٹھنے لگا تاروں کا غمدیدہ صبح لے نکلی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات اور پھروں نیند ہی آئی لگ کوئی خواب آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہی تھی مری خواب ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات
Vipul Kumar
4 likes
جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھروں بدن اور کہیں کام ہے وہ ہے وہ لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ جاناں ہوں تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تری جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے حقیقت جان نہ لے اور پھروں جبر تو یہ ہے کہ بتانا ہے مجھے مانگ لیتا ہوں تری غم سے ذرا سرداری ایک دنیا ہے جسے دل سے اٹھانا ہے مجھے
Vipul Kumar
3 likes
فرض سپردگی ہے وہ ہے وہ تقاضے نہیں ہوئے تری ک ہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہوں بھی گئے وصول چنو تری سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے ا سے کے بدن کا موڈ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر ہے وہ ہے وہ عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے ہوں گئے اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے ہم آ کے تیری بزم ہے وہ ہے وہ بے شک ہوئے ذلیل جتنے گناہگار تھے اتنے نہیں ہوئے ا سے بار جنگ ا سے سے رعونت کی تھی سو ہم اپنی انا کے ہوں گئے ا سے کے نہیں ہوئے
Vipul Kumar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vipul Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Vipul Kumar's ghazal.







