سمے کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات ک سے پہ خرچی ہے بتا مری کمائی ہوئی رات اور پھروں یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بتائی ہوئی رات ہجر کے بن ہے وہ ہے وہ ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا تو عسرت رم سے بہر حال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو ک ہاں جاتی مری جسم پہ آئی ہوئی رات دل کو چین آیا تو اٹھنے لگا تاروں کا غمدیدہ صبح لے نکلی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات اور پھروں نیند ہی آئی لگ کوئی خواب آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہی تھی مری خواب ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات
Related Ghazal
کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Abbas Qamar
46 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا
Zubair Ali Tabish
48 likes
ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا
Anand Raj Singh
54 likes
More from Vipul Kumar
شہر چھوؤں گا سے حقیقت باریک سڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اک پاؤں ٹکاتا ہوں تڑک جاتی ہے اور پیوسٹ ہوا جاتا ہے پتھر ہے وہ ہے وہ چراغ لگ کے ا سے ہاتھ سے لو اور بھڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا چور نہیں ہوں م گر ا سے کوچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل دھڑک جاتا ہے پا پوش کھڑک جاتی ہے پھول خوشبو سے بگڑتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لے چل اور جھونکے سے حقیقت دامن کو جھڑک جاتی ہے خواب کا رزق ہوئی جاتی ہے بیداری کی عمر نیند کیا چیز ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ رڑک جاتی ہے
Vipul Kumar
2 likes
فرض سپردگی ہے وہ ہے وہ تقاضے نہیں ہوئے تری ک ہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہوں بھی گئے وصول چنو تری سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے ا سے کے بدن کا موڈ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر ہے وہ ہے وہ عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے ہوں گئے اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے ہم آ کے تیری بزم ہے وہ ہے وہ بے شک ہوئے ذلیل جتنے گناہگار تھے اتنے نہیں ہوئے ا سے بار جنگ ا سے سے رعونت کی تھی سو ہم اپنی انا کے ہوں گئے ا سے کے نہیں ہوئے
Vipul Kumar
2 likes
جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھروں بدن اور کہیں کام ہے وہ ہے وہ لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ جاناں ہوں تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تری جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے حقیقت جان نہ لے اور پھروں جبر تو یہ ہے کہ بتانا ہے مجھے مانگ لیتا ہوں تری غم سے ذرا سرداری ایک دنیا ہے جسے دل سے اٹھانا ہے مجھے
Vipul Kumar
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vipul Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Vipul Kumar's ghazal.







