ghazalKuch Alfaaz

جناب شیخ کی ہرزہ سرائی جاری ہے ادھر سے ظلم ادھر سے دہائی جاری ہے بچھڑ گیا تو ہوں م گر یاد کرتا رہتا ہوں کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے تری علاوہ کہی اور بھی ملوث ہوں تری وفا سے مری بے وفائی جاری ہے حقیقت کیوں کہی گے کہ دونوں ہے وہ ہے وہ امن ہوں جائے ہماری جنگ سے جن کی کمائی جاری ہے عجیب خبط مسیحائی ہے کہ حیرت ہے مریض مر بھی چکا ہے دوائی جاری ہے

Ali Zaryoun13 Likes

Related Ghazal

خیال ہے وہ ہے وہ بھی اسے بے ردا نہیں کیا ہے یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوں سکا نہیں کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بے وجہ کو ایمان جانتا ہوں تو کیا خدا کے نام پر لوگوں نے کیا نہیں کیا ہے اسی لیے تو ہے وہ ہے وہ رویا نہیں بچھڑتے سمے تجھے روا لگ کیا ہے جدا نہیں کیا ہے یہ بدتمیز ا گر تجھ سے ڈر رہے ہیں تو پھروں تجھے بگاڑ کر ہے وہ ہے وہ نے برا نہیں کیا ہے

Ali Zaryoun

48 likes

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں تلاشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ ہے وہ ہے وہ گونگا تھا اب ہے وہ ہے وہ بولوںگا تو باتوں ہے وہ ہے وہ اثر بھی دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے خا لگ بدوشی ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں لیکن اگلی نسلیں تو لگ بھٹکیں ا نہیں گھر بھی دینا ظلم اور دل پامال کا یہ کھیل مکمل ہوں جائے ا سے کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

Meraj Faizabadi

23 likes

سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے

Tehzeeb Hafi

91 likes

اپنی مرضی سے ک ہاں اپنے سفر کے ہم ہیں رکھ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں پہلے ہر چیز تھی اپنی م گر اب لگتا ہے اپنے ہی گھر ہے وہ ہے وہ کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں سمے کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے ک سے کو معلوم ک ہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب سوچتے رہتے ہیں ک سے گھبرائیے کے ہم ہیں ہم و ہاں ہیں ج ہاں کچھ بھی نہیں رستہ لگ دیار اپنے ہی شاعر فطرت ہوئے شام و سحر کے ہم ہیں گنتیوں ہے وہ ہے وہ ہی گنے جاتے ہیں ہر دور ہے وہ ہے وہ ہم ہر قلمکار کی بے نام خبر کے ہم ہیں

Nida Fazli

16 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

More from Ali Zaryoun

سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہوں سو کسی موج ہے وہ ہے وہ ملا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دنوں تری آنکھوں کے اختیار ہے وہ ہے وہ ہوں جمال سبز کسی تجربے ہے وہ ہے وہ لا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوڑھے جسم کی ذلت اٹھا نہیں سکتا کسی اچھی اچھی تجلی سے کر نیا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہونے کی تکمیل چاہتا ہوں سخی سو اب بدن کی دیکھوں سے کر رہا مجھ کو مجھے چراغ کی حیرت بھی ہوں چکی معلوم اب ا سے سے آگے کوئی راستہ بتا مجھ کو ا سے اسم خاص کی ترکیب سے بنا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبتوں کے مقالے سے کر نیا مجھ کو درون سی لگ جسے دل سمجھ رہا تھا علی حقیقت نیلی آگ ہے یہ اب پتا چلا مجھ کو

Ali Zaryoun

9 likes

ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن

Ali Zaryoun

5 likes

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

چھو کر در شفا کو شفا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے عرصہ وبا ہے وہ ہے وہ دعا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک بے نشاں کے گھر کا پتا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر لا دوا کے غم کی دوا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا جو اپنی آپ رکاوٹ تھا صاحبہ اچھا ہوا کہ خود سے جدا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نے ادھر جدائی کا سوچا ہی تھا ادھر بیٹھے بٹھائے تجھ سے رہا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو خبر نہیں ہے کہ کیا بن گئے ہوں جاناں مجھ کو تو سب پتا ہے کہ کیا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تو لوگ کیوں مجھے کہتے ہیں کہ حقیقت ہوں جاناں گر جاناں نہیں تو ک سے ہے وہ ہے وہ فنا ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Ali Zaryoun

7 likes

ہوں جسے یار سے تصدیق نہیں کر سکتا حقیقت کسی شعر کی تضحیک نہیں کر سکتا پر کشش دوست مری ہجر کی مجبوری سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے دور سے نزدیک نہیں کر سکتا مجھ پہ تنقید سے رہتے ہیں اجالے جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دکانوں کو ہے وہ ہے وہ تاریک نہیں کر سکتا کون سے غم سے نکلنا ہے کسے رکھنا ہے مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ تفریق نہیں کر سکتا پیڑ کو گالیاں بکنے کے علاوہ ذریعون کیا کریں حقیقت کے جو تخلیق نہیں کر سکتا شعر تو خیر ہے وہ ہے وہ تنہائی ہے وہ ہے وہ کہ لوگا علی اپنی حالت تو ہے وہ ہے وہ خود ٹھیک نہیں کر سکتا ہجر سے گزرے بنا عشق بتانے والا بحث کر سکتا ہے تحقیق نہیں کر سکتا

Ali Zaryoun

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.