jidhar jaate hain sab jaana udhar achchha nahin lagta mujhe pamal raston ka safar achchha nahin lagta ghhalat baton ko khamoshi se sunna haami bhar lena bahut hain faede is men magar achchha nahin lagta mujhe dushman se bhi khuddari ki ummid rahti hai kisi ka bhi ho sar qadmon men sar achchha nahin lagta bulandi par unhen mitti ki khushbu tak nahin aati ye vo shakhen hain jin ko ab shajar achchha nahin lagta ye kyuun baaqi rahe atish-zano ye bhi jala daalo ki sab be-ghar hon aur mera ho ghar achchha nahin lagta jidhar jate hain sab jaana udhar achchha nahin lagta mujhe pamal raston ka safar achchha nahin lagta ghalat baaton ko khamoshi se sunna hami bhar lena bahut hain faede is mein magar achchha nahin lagta mujhe dushman se bhi khuddari ki ummid rahti hai kisi ka bhi ho sar qadmon mein sar achchha nahin lagta bulandi par unhen mitti ki khushbu tak nahin aati ye wo shakhen hain jin ko ab shajar achchha nahin lagta ye kyun baqi rahe aatish-zano ye bhi jala dalo ki sab be-ghar hon aur mera ho ghar achchha nahin lagta
Related Ghazal
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Javed Akhtar
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
شہر کے دکاندارو کاروبار الفت ہے وہ ہے وہ سود کیا زیاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے دل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سان سے کیسے رکتی ہے کیسے رہ نکلتی ہے کیسے بات چلتی ہے شوق کی زبان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے وصل کا سکون کیا ہے ہجر کا جنوں کیا ہے حسن کا فسوں کیا ہے عشق کا درون کیا ہے جاناں مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گم ر ہاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے زخم کیسے فلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کوئی کیسے روتا ہے خوشی کیا ہے نالے کیا دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں جاناں کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی آب و زیست بے اماں کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ جاناں کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے ہے وہ ہے وہ اک یہ ماہری بھی ہے پھروں بھی حرف چنتے ہوں صرف لفظ سنتے ہوں ان کے درمیان کیا ہے جاناں لگ جان پاؤگے
Javed Akhtar
0 likes
ہے وہ ہے وہ پا سکا لگ کبھی ا سے خلش سے چھٹکارا حقیقت مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا بر سے کے کھل گئے آنسو نتر گئی ہے فضا چمک رہا ہے سر شام درد کا تارا کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا اک امانت ہے مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی کھلے تھے پر تو میرا آسمان تھا سارا حقیقت سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ ہے وہ ہے وہ بھی کہتا ہوں م گر لگ چھوڑیں گے لوگ ا سے کو گر لگ فنکارا
Javed Akhtar
6 likes
بہانا ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا ہمیں یہ شوق ہے کیا آستین بھگونے کا اگر پلک پہ ہے موتی تو یہ نہیں کافی ہنر بھی چاہیے الفاظ میں پرو نے کا جو فصل خواب کی تیار ہے تو یہ جانو کہ وقت آ گیا پھروں درد کوئی بونے کا یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا ہے پاش پاش مگر پھروں بھی مسکراتا ہے وہ چہرہ جیسے ہو ٹوٹے ہوئے کھلونے کا
Javed Akhtar
4 likes
کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
Javed Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







