ghazalKuch Alfaaz

جو لوگ دشمن جاں تھے وہی سہارے تھے منافع تھے محبت ہے وہ ہے وہ نے گٹھلیاں تھے حضور شاہ ب سے اتنا ہی عرض کرنا ہے جو اختیار تمہارے تھے حق ہمارے تھے یہ اور بات بہاریں گریز پا نکلیں گلوں کے ہم نے تو صدقے بے حد اتارے تھے خدا کرے کہ تری عمر ہے وہ ہے وہ گنے جائیں حقیقت دن جو ہم نے تری ہجر ہے وہ ہے وہ گزارے تھے اب اذن ہوں تو تری زلف ہے وہ ہے وہ پیرو دیں پھول کہ آ سماں کے ستارے تم تو استعارے تھے قریب آئی تو ہر گل تھا خا لگ زنبور ندیم دور کے منظر تو پیاری پیاری تھے

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو

Shakeel Azmi

51 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Ahmad Nadeem Qasmi

کہی حقیقت مری محبت ہے وہ ہے وہ گھل رہا ہی لگ ہوں خدا کرے اسے یہ غضب ہوا ہی لگ ہوں سپردگی میرا گاہے تو نہیں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں تری روپ ہے وہ ہے وہ خدا ہی لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو پا کے بھی ک سے بے وجہ کی تلاش ہے وہ ہے وہ ہوں مری خیال ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا ہی لگ ہوں حقیقت عذر کر کہ مری دل کو بھی یقین آئی حقیقت گیت گا کہ جو ہے وہ ہے وہ نے کبھی سنا ہی لگ ہوں حقیقت بات کر جسے پھیلا کے ہے وہ ہے وہ غزل کہ لوں سناؤں شعر جو ہے وہ ہے وہ نے ابھی لکھا ہی لگ ہوں سحر کو دل کی طرف یہ دھواں سا کیسا ہے کہی یہ میرا دیا رات بھر جلا ہی لگ ہوں ہوں کیسے جبر مشیت کو ا سے دعا کا لحاظ جو ایک بار ملے پھروں کبھی جدا ہی لگ ہوں یہ ابر و کشت کی دنیا ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ عمر بھر کی وفا کا کوئی صلہ ہی لگ ہوں مری نگاہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ بھی ہے بد کردار لدا ہوا ہوں جو پھل سے م گر جھکا ہی لگ ہوں جو دشت دشت سے پھولوں کی بھیک مانگتا تھا کہی حقیقت توڑ کے کشکول مر گیا تو ہی لگ ہوں طلوع صبح نے

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

ہے وہ ہے وہ کسی بے وجہ سے بیزار نہیں ہوں سکتا ایک ذرہ بھی تو بے کار نہیں ہوں سکتا ا سے دودمان پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ میرا گاہے نہیں ہوں سکتا اے خدا پھروں یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شاہکار تو فنار نہیں ہوں سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہوں سکتا تو کہ اک موجہ نکہت سے بھی چونک اٹھتا ہے حشر آتا ہے تو منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوں سکتا سر دیوار یہ کیوں نرخ کی تکرار ہوئی گھر کا آنگن کبھی بازار نہیں ہوں سکتا راکھ سی مجل سے اقوام کی چٹکی ہے وہ ہے وہ ہے کیا کچھ بھی ہوں یہ میرا پندار نہیں ہوں سکتا ا سے حقیقت کو سمجھنے ہے وہ ہے وہ لٹایا کیا کچھ میرا دشمن میرا غم خوار نہیں ہوں سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھیجا تجھے ایوان حکومت ہے وہ ہے وہ م گر اب تو برسوں ترا دیدار نہیں ہوں سکتا تیرگی چاہے ستاروں کی سفارش لائے رات سے مجھ کو سروکار نہیں ہوں سکتا حقیقت جو شعروں ہے وہ ہے وہ ہے اک اجازت پ سے الفاظ ندیم ا سے کا الفاظ ہے وہ ہے وہ اظہار نہیں ہوں سکتا

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

एहसास में फूल खिल रहे हैं पतझड़ के अजीब सिलसिले हैं कुछ इतनी शदीद तीरगी है आँखों में सितारे तैरते हैं देखें तो हवा जमी हुई है सोचें तो दरख़्त झूमते हैं सुक़रात ने ज़हर पी लिया था हम ने जीने के दुख सहे हैं हम तुझ से बिगड़ के जब भी उठे फिर तेरे हुज़ूर आ गए हैं हम अक्स हैं एक दूसरे का चेहरे ये नहीं हैं आइने हैं लम्हों का ग़ुबार छा रहा है यादों के चराग़ जल रहे हैं सूरज ने घने सनोबरों में जाले से शुआ'ओं के बुने हैं यकसाँ हैं फ़िराक़-ओ-वस्ल दोनों ये मरहले एक से कड़े हैं पा कर भी तो नींद उड़ गई थी खो कर भी तो रत-जगे मिले हैं जो दिन तिरी याद में कटे थे माज़ी के खंडर बने खड़े हैं जब तेरा जमाल ढूँडते थे अब तेरा ख़याल ढूँडते हैं हम दिल के गुदाज़ से हैं मजबूर जब ख़ुश भी हुए तो रोए हैं हम ज़िंदा हैं ऐ फ़िराक़ की रात प्यारी तिरे बाल क्यूँँ खुले हैं

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

मिरा ग़ुरूर तुझे खो के हार मान गया मैं चोट खा के मगर अपनी क़द्र जान गया कहीं उफ़ुक़ न मिला मेरी दश्त-गर्दी को मैं तेरी धुन में भरी काएनात छान गया ख़ुदा के बा'द तो बे-इंतिहा अँधेरा है तिरी तलब में कहाँ तक न मेरा ध्यान गया जबीं पे बल भी न आता गँवा के दोनों-जहाँ जो तू छिना तो मैं अपनी शिकस्त मान गया बदलते रंग थे तेरी उमंग के ग़म्माज़ तू मुझ से बिछड़ा तो मैं तेरा राज़ जान गया ख़ुद अपने आप से मैं शिकवा-संज आज भी हूँ 'नदीम' यूँँ तो मुझे इक जहान मान गया

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

پھروں بھيانک تیرگی ہے وہ ہے وہ آ گئے ہم گجر بجنے سے دھوکہ کھا گئے ہاں یہ خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئینے کی چادریں پھیلا گئے ک سے تجلی کا دیا ہم کو فریب ک سے دھندلکے ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہنچا گئے ان کا آنا حشر سے کچھ کم لگ تھا اور جب پلٹے خوشگوار ڈھا گئے اک پہیلی کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دے کر جواب اک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھروں وہی اختر شماری کا نصرت ہم تو ا سے تکرار سے اکتا گئے رہنماؤ رات ابھی باقی صحیح آج سیارے ا گر ٹکرا گئے کیا رسا نکلی دعا اجتہاد حقیقت چھپاتے ہی رہے ہم پا گئے ب سے وہی معمار فردا ہیں ندیم جن کو مری ولولے را سے آ گئے

Ahmad Nadeem Qasmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Nadeem Qasmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Nadeem Qasmi's ghazal.