jo us ne kiya use sila de maula mujhe sabr ki jaza de ya mere diye ki lau badha de ya raat ko subh se mila de sach huun to mujhe amar bana de jhuta huun to naqsh sab mita de ye qaum ajiib ho gai hai is qaum ko khu-e-ambiya de utrega na koi asman se ik aas men dil magar sada de bachchon ki tarah ye lafz mere maabud inhen bolna sikha de dukh dahr ke apne naam likkhun har dukh mujhe zaat ka maza de ik mera vajud sun raha hai ilham jo raat ki hava de mujh se mira koi milne vaala bichhda to nahin magar mila de chehra mujhe apna dekhne ko ab dast-e-havas men aina de jis shakhs ne umar-e-hijr kaati us shakhs ko ek raat kya de dukhta hai badan ki phir mile vo mil jaae to ruuh ko dikha de kya chiiz hai khvahish-e-badan bhi har baar naya hi zaiqa de chhune men ye dar ki mar na jaun chhu luun to vo zindagi siva de jo us ne kiya use sila de maula mujhe sabr ki jaza de ya mere diye ki lau badha de ya raat ko subh se mila de sach hun to mujhe amar bana de jhuta hun to naqsh sab mita de ye qaum ajib ho gai hai is qaum ko khu-e-ambiya de utrega na koi aasman se ek aas mein dil magar sada de bachchon ki tarah ye lafz mere mabud inhen bolna sikha de dukh dahr ke apne nam likkhun har dukh mujhe zat ka maza de ek mera wajud sun raha hai ilham jo raat ki hawa de mujh se mera koi milne wala bichhda to nahin magar mila de chehra mujhe apna dekhne ko ab dast-e-hawas mein aaina de jis shakhs ne umar-e-hijr kati us shakhs ko ek raat kya de dukhta hai badan ki phir mile wo mil jae to ruh ko dikha de kya chiz hai khwahish-e-badan bhi har bar naya hi zaiqa de chhune mein ye dar ki mar na jaun chhu lun to wo zindagi siwa de
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
More from Obaidullah Aleem
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب ا سے دودمان بھی لگ چاہو کہ دم نکل جائے ملے ہیں یوں تو بے حد آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمی انف سے سے پگھل جائے محبتوں ہے وہ ہے وہ غضب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون ک ہاں راستہ بدل جائے زہے حقیقت دل جو تمنا تازہ تر ہے وہ ہے وہ رہے خوشا حقیقت عمر جو خوابوں ہی ہے وہ ہے وہ بہل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت چراغ سر رہ گزاری دنیا ہوں جو اپنی ذات کی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جل جائے ہر ایک لہجہ یہی آرزو یہی حسرت جو آگ دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت شعر ہے وہ ہے وہ بھی ڈھل جائے
Obaidullah Aleem
1 likes
ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہر حال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق ہے وہ ہے وہ آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارہ کرتے محو آرائش رکھ ہے حقیقت خوشگوار سر بام آنکھ ا گر آئی لگ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے ہے وہ ہے وہ تو ممکن نہیں اتنے چہرے ک سے سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خا لگ دل آپ کی خلوت کے لیے پھروں کوئی آئی ی ہاں کیسے بے شرط کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ خواب تیری جانب ہی تری لوگ اشارہ کرتے ظرف آئی لگ ک ہاں اور ترا حسن ک ہاں ہم تری چہرے سے آئی لگ سنوارا کرتے
Obaidullah Aleem
1 likes
کوئی دھن ہوں ہے وہ ہے وہ تری گیت ہی گائے جاؤں درد سینے ہے وہ ہے وہ اٹھے شور مچائے جاؤں خواب بن کر تو برستا رہے شبنم شبنم اور بس ہے وہ ہے وہ اسی موسم ہے وہ ہے وہ نہائے جاؤں تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو لکھوں تری تصویر بنائے جاؤں جس کو ملنا نہیں پھروں اس کا سے محبت کیسی سوچتا جاؤں مگر دل ہے وہ ہے وہ اتاریں جاؤں اب تو اس کا کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں یہی چہرے مری ہونے کی گواہی دیں گے ہر نئے حرف ہے وہ ہے وہ جاں اپنی سمائے جاؤں جان تو چیز ہے کیا رشتہ جاں سے آگے کوئی آواز دیے جائے ہے وہ ہے وہ آئی جاؤں شاید اس کا راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں دھوپ ہے وہ ہے وہ چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں اہل دل ہوں گے تو بھلاکر سخن کو میرے بزم ہے وہ ہے وہ آ ہی گیا تو ہوں تو سنائے جاؤں
Obaidullah Aleem
1 likes
ذکر وفا سا حرص و ہوا سا لگتا ہے یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے جسے بھی دیکھو حقیقت کھویا ہوا سا لگتا ہے زمین ہے سو حقیقت اپنی گردشوں ہے وہ ہے وہ کہی جو چاند ہے سو حقیقت ٹوٹا ہوا سا لگتا ہے مری وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو جو جاناں کہو مجھے قہر خدا سا لگتا ہے جو شام آئی تو پھروں شام کا لگا دربار جو دن ہوا تو حقیقت دن کربلا سا لگتا ہے یہ رات کھا گئی اک ایک کر کے سارے چراغ جو رہ گیا تو ہے حقیقت شورش ہوا سا لگتا ہے دعا کروں کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے لیے دعا ہوں جاؤں حقیقت ایک بے وجہ جو دل کو دعا سا لگتا ہے تو دل ہے وہ ہے وہ بجھنے سی لگتی ہے کائنات تمام کبھی کبھی جو مجھے تو بجھا سا لگتا ہے جو آ رہی ہے صدا غور سے سنو ا سے کو کہ ا سے صدا ہے وہ ہے وہ خدا بولتا سا لگتا ہے ابھی خرید لیں دنیا ک ہاں کی مہنگی ہے م گر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے یہ موت ہے یا کوئی آخری وصال کے بعد غضب سکون ہے وہ ہے وہ سویا ہوا سا لگتا ہے ہوا رنگ دو عالم ہے وہ ہے وہ جاگتی
Obaidullah Aleem
0 likes
جو اس کا نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے دل پامال کی جزا دے یا میرے دیے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے فدا بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہوں گئی ہے اس کا کا قوم کو خو انبیا دے اترےگا نہ کوئی آسماں سے اک آس ہے وہ ہے وہ دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود نہ بولنا سکھا دے دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں ہر دکھ مجھے ذات کا مزہ دے اک میرا وجود سن رہا ہے الہام جو رات کی ہوا دے مجھ سے میرا کوئی ملنے والا بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو اب دست ہوس ہے وہ ہے وہ آئینہ دے جس بے وجہ نے عمر ہجر کاٹی اس کا کا بے وجہ کو ایک رات کیا دے دکھتا ہے بدن کہ پھروں ملے حقیقت مل جائے تو روح کو دکھا دے کیا چیز ہے خواہش بدن بھی ہر بار نیا ہی ذائقہ دے چھونے ہے وہ ہے وہ یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں چھو لوں تو حقیقت زندگی سوا دے
Obaidullah Aleem
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Obaidullah Aleem.
Similar Moods
More moods that pair well with Obaidullah Aleem's ghazal.







