ghazalKuch Alfaaz

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی تینوں تھے ہم حقیقت بھی تھے اور ہے وہ ہے وہ بھی تھا تنہائی بھی یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی دو دو شکلیں دکھتی ہیں ا سے بہکے سے آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی کتنی جل گرا میلی کرتا ہے پوشاکیں روز فلک صبح ہی رات اتاری تھی اور شام کو شب پہنائی بھی خموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خموشی تھی ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی کل ساحل پر لیٹے لیٹے کتنی ساری باتیں کیں آپ کا ہنکارا لگ آیا چاند نے بات سکونت بھی

Gulzar1 Likes

Related Ghazal

بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے

Himanshi babra KATIB

45 likes

دو ناووں پر پاؤں پسارے ایسے کیسے حقیقت بھی پیارا ہم بھی پیاری ایسے کیسے سورج بولا بن مری دنیا اندھی ہے ہنسکر بولے چاند ستارے تم ایسے کیسے تری حصے کی خوشیوں سے بیر نہیں پر مری حق ہے وہ ہے وہ صرف گٹھلیاں ایسے کیسے گالوں پر بوسہ دے کر جب چلی گئی حقیقت کہتے رہ گئے ہونٹ بیچارے ایسے کیسے مجھ چنو کو یاں پر دیکھ کے کہتے ہیں حقیقت اتنا آگے بنا سہارے ایسے کیسے چنو ہی مقطعے پر پہنچی غزل سرسری کی بول اٹھے سارے کے سارے ایسے کیسے

Asad Akbarabadi

28 likes

कई लोगों से बेहतर हँस रहा है अगर तू अपने ऊपर हँस रहा है दशानन के अहम को तोड़ कर के बहुत छोटा सा बंदर हँस रहा है मुझे कोई नहीं ख़त भेजता अब मेरी छत का कबूतर हँस रहा है मुक़द्दर पर ये मेहनत हँस रही है ? या मेहनत पर मुक़द्दर हँस रहा है ? हज़ारों ग़म हैं उस की ज़िन्दगी में मगर फिर भी सुख़न-वर हँस रहा है कहा मैं ने कि दुनिया जीतनी है न जाने क्यूँ सिकन्दर हँस रहा है

Tanoj Dadhich

27 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

روز تاروں کو نمائش ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ نکل پڑتا ہے ایک دیوا لگ مسافر ہے مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر دہر ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر ہے وہ ہے وہ میرا جاگتا خواب روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت ہے وہ ہے وہ غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے ا سے کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے

Rahat Indori

33 likes

More from Gulzar

ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता

Gulzar

3 likes

ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں

Gulzar

2 likes

ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک بر سے جیے دو دن کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہزاروں بر سے جیے صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست دو چار لمحے ب سے ہے وہ ہے وہ تھے دو چار ب سے جیے صحرا کے ا سے طرف سے گئے سارے کارواں سن سن کے ہم تو صرف صدائے جر سے جیے ہونٹوں ہے وہ ہے وہ لے کے رات کے آنچل کا اک سرا آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا م سے جیے محدود ہیں دعائیں مری اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر سان سے پر سکون ہوں تو سو بر سے جیے

Gulzar

3 likes

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی ہے وہ ہے وہ چھینا جھپٹی ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا ہوںگا ہے وہ ہے وہ پیام عشق کھلتا گیا تو جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ مرجھاتے تو اڑائے کیسے کٹےگی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے بلکتی ہوئے حسرتیں اپنی یتیموں لگ داڑھیاں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے سی لیے ہونٹ حقیقت پاکیزہ نگاہیں سن کر میلی ہوں جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے

Gulzar

1 likes

تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی

Gulzar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's ghazal.