خود کو سمیٹنے ہے وہ ہے وہ تھی اتنی ا گر م گر بکھرا پڑا ہوں آج بھی تری ادھر ادھر اپنی کمی سے کہ دو کہ شدت سے تو رہے دیکھو کہ رہ لگ جائے کہی کچھ کسر و سر اک روز جاناں بھی تو ذرا خود سے نکل ملو طے کر لیے ہیں ہے وہ ہے وہ نے تو سارے سفر و فر خوبصورت تری یا پیار ہوں غم ہوں شراب ہوں ممکن نہیں ہے تھوڑے ہے وہ ہے وہ اپنی گزر بسر تو کیا گئی ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ہوں سخت جان ماں لگتی نہیں ہے اب تو مجھے کچھ نظر و زر مدت سے کچھ بھی تو تیری چلتی نہیں خدا رکھا تو کر جہان کی بھی کچھ خبر و بر ب سے عشق کا ہے مارا تو کچھ شعر کہ دیے ور لگ ہے آشنا ہے وہ ہے وہ ک ہاں کچھ ہنر و نر
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Vineet Aashna
یا تری آرزو سا ہوں جاؤں یا تری آرزو کا ہوں جاؤں مری کانوں ہے وہ ہے وہ جو تو کن کہ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تصور سا ترا ہوں جاؤں مجھ سے اک بار ذرا مل ایسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری گھر کا پتا ہوں جاؤں تو بھی آ جانا کہی رکھ کے بدن جسم سے ہے وہ ہے وہ بھی جدا ہوں جاؤں توڑ کر ماٹی یہ مری پھروں سے یوں حرف حکایات کہ نیا ہوں جاؤں عشق کی رسم یہی ہے باقی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اک بار خفا ہوں جاؤں آشنائی ہے سخن گوئی بھی اور کتنا ہے وہ ہے وہ برا ہوں جاؤں
Vineet Aashna
0 likes
مانا کہ میرا جسم یہ بستر جاں گلا سے ہے لیکن یہ دل تو آج بھی کورا گلا سے ہے کتنی ہے کیسی مے ہے یہی بات ہے بڑی چان گرا یا کانچ کا صحیح رہتا گلا سے ہے کچھ تشنہ لبی بھی رکھنی تھی جاناں سنبھال کے جاناں نے حفاظتوں سے جو رکھا گلا سے ہے پینے کا لطف ہے تبھی جب یہ رہے لگ علم تیرا گلا سے ہے کہ یہ میرا گلا سے ہے قیمت تو مری پیا سے کی بھی کم نہیں حضور یہ اور بات آپ کا مہنگا گلا سے ہے جاناں کو بھی ا سے جہان کا آ ہی گیا تو چلن پینے کے بعد جاناں نے بھی پھینکا گلا سے ہے منا سے لگا ہے وہ ہے وہ پی گیا تو بوتل تو شور کیوں شدت کی پیا سے کو ک ہاں ملتا گلا سے ہے دنیا کا ہے وہ ہے وہ ضرور ہوں پر شام ہی تلک پھروں ا سے کے بعد تو مری دنیا گلا سے ہے
Vineet Aashna
1 likes
غضب سی آج کل ہے وہ ہے وہ اک پریشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں یہی مشکل مری ہے ب سے ہے وہ ہے وہ آسانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے ان جھیل سی آنکھوں ہے وہ ہے وہ یوں بھی ڈوبنا ہی ہے لگ پوچھو بارہا کتنے ہے وہ ہے وہ اب پانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں لگ صورت وصل کی کوئی لگ کوئی ہجر کا غم ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کے بار کچھ ایسی ہی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے لگتا تھا ممکن ہی نہیں ہے ا سے کے بن جینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ ہوں م گر مدت سے حیرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بدن کا پیرہن چھوٹا مجھے پڑھنے لگیں لگا اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر سان سے لینے کو بھی عریانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں خدا نے رکھ دیا مجھ کو اسی کے دل ہے وہ ہے وہ جانے کیوں لگ با ہوں ہے وہ ہے وہ ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے کی لگ پیشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں اسی اک آشنا کو ڈھونڈتی ہر پل مری آنکھیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا رات دن ج سے کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں
Vineet Aashna
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vineet Aashna.
Similar Moods
More moods that pair well with Vineet Aashna's ghazal.







