مانا کہ میرا جسم یہ بستر جاں گلا سے ہے لیکن یہ دل تو آج بھی کورا گلا سے ہے کتنی ہے کیسی مے ہے یہی بات ہے بڑی چان گرا یا کانچ کا صحیح رہتا گلا سے ہے کچھ تشنہ لبی بھی رکھنی تھی جاناں سنبھال کے جاناں نے حفاظتوں سے جو رکھا گلا سے ہے پینے کا لطف ہے تبھی جب یہ رہے لگ علم تیرا گلا سے ہے کہ یہ میرا گلا سے ہے قیمت تو مری پیا سے کی بھی کم نہیں حضور یہ اور بات آپ کا مہنگا گلا سے ہے جاناں کو بھی ا سے جہان کا آ ہی گیا تو چلن پینے کے بعد جاناں نے بھی پھینکا گلا سے ہے منا سے لگا ہے وہ ہے وہ پی گیا تو بوتل تو شور کیوں شدت کی پیا سے کو ک ہاں ملتا گلا سے ہے دنیا کا ہے وہ ہے وہ ضرور ہوں پر شام ہی تلک پھروں ا سے کے بعد تو مری دنیا گلا سے ہے
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں
Kushal Dauneria
43 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا
Bashir Badr
43 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Vineet Aashna
یا تری آرزو سا ہوں جاؤں یا تری آرزو کا ہوں جاؤں مری کانوں ہے وہ ہے وہ جو تو کن کہ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تصور سا ترا ہوں جاؤں مجھ سے اک بار ذرا مل ایسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری گھر کا پتا ہوں جاؤں تو بھی آ جانا کہی رکھ کے بدن جسم سے ہے وہ ہے وہ بھی جدا ہوں جاؤں توڑ کر ماٹی یہ مری پھروں سے یوں حرف حکایات کہ نیا ہوں جاؤں عشق کی رسم یہی ہے باقی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اک بار خفا ہوں جاؤں آشنائی ہے سخن گوئی بھی اور کتنا ہے وہ ہے وہ برا ہوں جاؤں
Vineet Aashna
0 likes
غضب سی آج کل ہے وہ ہے وہ اک پریشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں یہی مشکل مری ہے ب سے ہے وہ ہے وہ آسانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے ان جھیل سی آنکھوں ہے وہ ہے وہ یوں بھی ڈوبنا ہی ہے لگ پوچھو بارہا کتنے ہے وہ ہے وہ اب پانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں لگ صورت وصل کی کوئی لگ کوئی ہجر کا غم ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کے بار کچھ ایسی ہی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے لگتا تھا ممکن ہی نہیں ہے ا سے کے بن جینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ ہوں م گر مدت سے حیرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بدن کا پیرہن چھوٹا مجھے پڑھنے لگیں لگا اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر سان سے لینے کو بھی عریانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں خدا نے رکھ دیا مجھ کو اسی کے دل ہے وہ ہے وہ جانے کیوں لگ با ہوں ہے وہ ہے وہ ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے کی لگ پیشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں اسی اک آشنا کو ڈھونڈتی ہر پل مری آنکھیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا رات دن ج سے کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں
Vineet Aashna
2 likes
خود کو سمیٹنے ہے وہ ہے وہ تھی اتنی ا گر م گر بکھرا پڑا ہوں آج بھی تری ادھر ادھر اپنی کمی سے کہ دو کہ شدت سے تو رہے دیکھو کہ رہ لگ جائے کہی کچھ کسر و سر اک روز جاناں بھی تو ذرا خود سے نکل ملو طے کر لیے ہیں ہے وہ ہے وہ نے تو سارے سفر و فر خوبصورت تری یا پیار ہوں غم ہوں شراب ہوں ممکن نہیں ہے تھوڑے ہے وہ ہے وہ اپنی گزر بسر تو کیا گئی ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ہوں سخت جان ماں لگتی نہیں ہے اب تو مجھے کچھ نظر و زر مدت سے کچھ بھی تو تیری چلتی نہیں خدا رکھا تو کر جہان کی بھی کچھ خبر و بر ب سے عشق کا ہے مارا تو کچھ شعر کہ دیے ور لگ ہے آشنا ہے وہ ہے وہ ک ہاں کچھ ہنر و نر
Vineet Aashna
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vineet Aashna.
Similar Moods
More moods that pair well with Vineet Aashna's ghazal.







