ghazalKuch Alfaaz

یا تری آرزو سا ہوں جاؤں یا تری آرزو کا ہوں جاؤں مری کانوں ہے وہ ہے وہ جو تو کن کہ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تصور سا ترا ہوں جاؤں مجھ سے اک بار ذرا مل ایسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری گھر کا پتا ہوں جاؤں تو بھی آ جانا کہی رکھ کے بدن جسم سے ہے وہ ہے وہ بھی جدا ہوں جاؤں توڑ کر ماٹی یہ مری پھروں سے یوں حرف حکایات کہ نیا ہوں جاؤں عشق کی رسم یہی ہے باقی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اک بار خفا ہوں جاؤں آشنائی ہے سخن گوئی بھی اور کتنا ہے وہ ہے وہ برا ہوں جاؤں

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھدار نظر آتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں جاؤں کروں ک سے سے شکایت ا سے کی ہر طرف ا سے کے طرف دار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھروں ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابش اور پھروں حقیقت ہی لگاتار نظر آتے ہیں

Zubair Ali Tabish

39 likes

More from Vineet Aashna

مانا کہ میرا جسم یہ بستر جاں گلا سے ہے لیکن یہ دل تو آج بھی کورا گلا سے ہے کتنی ہے کیسی مے ہے یہی بات ہے بڑی چان گرا یا کانچ کا صحیح رہتا گلا سے ہے کچھ تشنہ لبی بھی رکھنی تھی جاناں سنبھال کے جاناں نے حفاظتوں سے جو رکھا گلا سے ہے پینے کا لطف ہے تبھی جب یہ رہے لگ علم تیرا گلا سے ہے کہ یہ میرا گلا سے ہے قیمت تو مری پیا سے کی بھی کم نہیں حضور یہ اور بات آپ کا مہنگا گلا سے ہے جاناں کو بھی ا سے جہان کا آ ہی گیا تو چلن پینے کے بعد جاناں نے بھی پھینکا گلا سے ہے منا سے لگا ہے وہ ہے وہ پی گیا تو بوتل تو شور کیوں شدت کی پیا سے کو ک ہاں ملتا گلا سے ہے دنیا کا ہے وہ ہے وہ ضرور ہوں پر شام ہی تلک پھروں ا سے کے بعد تو مری دنیا گلا سے ہے

Vineet Aashna

1 likes

خود کو سمیٹنے ہے وہ ہے وہ تھی اتنی ا گر م گر بکھرا پڑا ہوں آج بھی تری ادھر ادھر اپنی کمی سے کہ دو کہ شدت سے تو رہے دیکھو کہ رہ لگ جائے کہی کچھ کسر و سر اک روز جاناں بھی تو ذرا خود سے نکل ملو طے کر لیے ہیں ہے وہ ہے وہ نے تو سارے سفر و فر خوبصورت تری یا پیار ہوں غم ہوں شراب ہوں ممکن نہیں ہے تھوڑے ہے وہ ہے وہ اپنی گزر بسر تو کیا گئی ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ہوں سخت جان ماں لگتی نہیں ہے اب تو مجھے کچھ نظر و زر مدت سے کچھ بھی تو تیری چلتی نہیں خدا رکھا تو کر جہان کی بھی کچھ خبر و بر ب سے عشق کا ہے مارا تو کچھ شعر کہ دیے ور لگ ہے آشنا ہے وہ ہے وہ ک ہاں کچھ ہنر و نر

Vineet Aashna

3 likes

غضب سی آج کل ہے وہ ہے وہ اک پریشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں یہی مشکل مری ہے ب سے ہے وہ ہے وہ آسانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے ان جھیل سی آنکھوں ہے وہ ہے وہ یوں بھی ڈوبنا ہی ہے لگ پوچھو بارہا کتنے ہے وہ ہے وہ اب پانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں لگ صورت وصل کی کوئی لگ کوئی ہجر کا غم ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کے بار کچھ ایسی ہی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے لگتا تھا ممکن ہی نہیں ہے ا سے کے بن جینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ ہوں م گر مدت سے حیرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بدن کا پیرہن چھوٹا مجھے پڑھنے لگیں لگا اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر سان سے لینے کو بھی عریانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں خدا نے رکھ دیا مجھ کو اسی کے دل ہے وہ ہے وہ جانے کیوں لگ با ہوں ہے وہ ہے وہ ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے کی لگ پیشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں اسی اک آشنا کو ڈھونڈتی ہر پل مری آنکھیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا رات دن ج سے کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں

Vineet Aashna

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vineet Aashna.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vineet Aashna's ghazal.