ghazalKuch Alfaaz

غضب سی آج کل ہے وہ ہے وہ اک پریشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں یہی مشکل مری ہے ب سے ہے وہ ہے وہ آسانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے ان جھیل سی آنکھوں ہے وہ ہے وہ یوں بھی ڈوبنا ہی ہے لگ پوچھو بارہا کتنے ہے وہ ہے وہ اب پانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں لگ صورت وصل کی کوئی لگ کوئی ہجر کا غم ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کے بار کچھ ایسی ہی ویرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں مجھے لگتا تھا ممکن ہی نہیں ہے ا سے کے بن جینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ ہوں م گر مدت سے حیرانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بدن کا پیرہن چھوٹا مجھے پڑھنے لگیں لگا اتنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر سان سے لینے کو بھی عریانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں خدا نے رکھ دیا مجھ کو اسی کے دل ہے وہ ہے وہ جانے کیوں لگ با ہوں ہے وہ ہے وہ ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے کی لگ پیشانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں اسی اک آشنا کو ڈھونڈتی ہر پل مری آنکھیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا رات دن ج سے کی نگہبانی ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Vineet Aashna

یا تری آرزو سا ہوں جاؤں یا تری آرزو کا ہوں جاؤں مری کانوں ہے وہ ہے وہ جو تو کن کہ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تصور سا ترا ہوں جاؤں مجھ سے اک بار ذرا مل ایسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری گھر کا پتا ہوں جاؤں تو بھی آ جانا کہی رکھ کے بدن جسم سے ہے وہ ہے وہ بھی جدا ہوں جاؤں توڑ کر ماٹی یہ مری پھروں سے یوں حرف حکایات کہ نیا ہوں جاؤں عشق کی رسم یہی ہے باقی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اک بار خفا ہوں جاؤں آشنائی ہے سخن گوئی بھی اور کتنا ہے وہ ہے وہ برا ہوں جاؤں

Vineet Aashna

0 likes

مانا کہ میرا جسم یہ بستر جاں گلا سے ہے لیکن یہ دل تو آج بھی کورا گلا سے ہے کتنی ہے کیسی مے ہے یہی بات ہے بڑی چان گرا یا کانچ کا صحیح رہتا گلا سے ہے کچھ تشنہ لبی بھی رکھنی تھی جاناں سنبھال کے جاناں نے حفاظتوں سے جو رکھا گلا سے ہے پینے کا لطف ہے تبھی جب یہ رہے لگ علم تیرا گلا سے ہے کہ یہ میرا گلا سے ہے قیمت تو مری پیا سے کی بھی کم نہیں حضور یہ اور بات آپ کا مہنگا گلا سے ہے جاناں کو بھی ا سے جہان کا آ ہی گیا تو چلن پینے کے بعد جاناں نے بھی پھینکا گلا سے ہے منا سے لگا ہے وہ ہے وہ پی گیا تو بوتل تو شور کیوں شدت کی پیا سے کو ک ہاں ملتا گلا سے ہے دنیا کا ہے وہ ہے وہ ضرور ہوں پر شام ہی تلک پھروں ا سے کے بعد تو مری دنیا گلا سے ہے

Vineet Aashna

1 likes

خود کو سمیٹنے ہے وہ ہے وہ تھی اتنی ا گر م گر بکھرا پڑا ہوں آج بھی تری ادھر ادھر اپنی کمی سے کہ دو کہ شدت سے تو رہے دیکھو کہ رہ لگ جائے کہی کچھ کسر و سر اک روز جاناں بھی تو ذرا خود سے نکل ملو طے کر لیے ہیں ہے وہ ہے وہ نے تو سارے سفر و فر خوبصورت تری یا پیار ہوں غم ہوں شراب ہوں ممکن نہیں ہے تھوڑے ہے وہ ہے وہ اپنی گزر بسر تو کیا گئی ہے وہ ہے وہ ہوں گیا تو ہوں سخت جان ماں لگتی نہیں ہے اب تو مجھے کچھ نظر و زر مدت سے کچھ بھی تو تیری چلتی نہیں خدا رکھا تو کر جہان کی بھی کچھ خبر و بر ب سے عشق کا ہے مارا تو کچھ شعر کہ دیے ور لگ ہے آشنا ہے وہ ہے وہ ک ہاں کچھ ہنر و نر

Vineet Aashna

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vineet Aashna.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vineet Aashna's ghazal.