ghazalKuch Alfaaz

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں م گر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشان تک لگ بتائے ایسی ن گرا ہے وہ ہے وہ اتر جانے کو جی چاہتا ہے کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے وہی پیمان جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بے حد اسی پیمان سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

More from Iftikhar Arif

یہ بستی جانی پہچانی بے حد ہے ی ہاں وعدوں کی ارزانی بے حد ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں م گر لہجوں ہے وہ ہے وہ ویرانی بے حد ہے سبک ظرفوں کے آب ہے وہ ہے وہ نہیں لفظ م گر شوق گل افشانی بے حد ہے ہے بازاروں ہے وہ ہے وہ پانی سر سے اونچا مری گھر ہے وہ ہے وہ بھی تغیانی بے حد ہے لگ جانے کب مری صحرا ہے وہ ہے وہ آئی حقیقت اک دریا کہ طوفانی بے حد ہے لگ جانے کب مری آنگن ہے وہ ہے وہ برسے حقیقت اک بادل کہ نقصانی بے حد ہے

Iftikhar Arif

0 likes

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ سمے ک سے کی رعونت پہ خاک ڈال گیا تو یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ جانے آواز کون سے عذاب ہے وہ ہے وہ ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے غضب غصہ ہے ا سے بےوفا کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی ہے مصلحت جبر احتیاط تو پھروں ہم اپنا حال کہی گے چھپا کے لہجے ہے وہ ہے وہ

Iftikhar Arif

1 likes

थकन तो अगले सफ़र के लिए बहाना था उसे तो यूँँ भी किसी और सम्त जाना था वही चराग़ बुझा जिस की लौ क़यामत थी उसी पे ज़र्ब पड़ी जो शजर पुराना था मता-ए-जाँ का बदल एक पल की सरशारी सुलूक ख़्वाब का आँखों से ताजिराना था हवा की काट शगूफ़ों ने जज़्ब कर ली थी तभी तो लहजा-ए-ख़ुशबू भी जारेहाना था वही फ़िराक़ की बातें वही हिकायत-ए-वस्ल नई किताब का एक इक वरक़ पुराना था क़बा-ए-ज़र्द निगार-ए-ख़िज़ाँ पे सजती थी तभी तो चाल का अंदाज़ ख़ुसरवाना था

Iftikhar Arif

2 likes

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی قید ہے وہ ہے وہ ہوں قید سے رہائی ہے وہ ہے وہ بھی لہو کی آگ ہے وہ ہے وہ جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی خسارہ ہے نا رسائی ہے وہ ہے وہ بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے سمے م گر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی ہے وہ ہے وہ بھی لحاظ حرمت پیمان لگ پا سے ہم خوابی غضب طرح کے تصادم تھے آشنائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ د سے بر سے سے کسی خواب کے عذاب ہے وہ ہے وہ ہوں وہی عذاب در آیا ہے ا سے دہائی ہے وہ ہے وہ بھی تصادم دل و دنیا ہے وہ ہے وہ دل کی ہار کے بعد حجاب آنے لگا ہے غزل سرائی ہے وہ ہے وہ بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں اب ا سے کی طرف اسی کی طرف جو مری ساتھ تھا مری شکستہ پائی ہے وہ ہے وہ بھی

Iftikhar Arif

0 likes

دیار نور ہے وہ ہے وہ تیرہ شبوں کا ساتھی ہوں کوئی تو ہوں جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مری مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ لگ آؤں حقیقت میرا ہوں کے رہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہوں حقیقت مری نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہوں کرے چھوؤں گا جو مجھ سے تو مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ ر ہوں تو مری تیوروں کا ساتھی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ کو دیکھوں حقیقت مجھ کو دیکھے جائے حقیقت مری نف سے کی گمراہیاں کا ساتھی ہوں حقیقت خواب دیکھے تو دیکھے مری حوالے سے مری خیال کے سب م دی کا ساتھی ہوں

Iftikhar Arif

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Iftikhar Arif.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Iftikhar Arif's ghazal.