ghazalKuch Alfaaz

کس کو روشن بنا رہے ہوں جاناں اتنا جو بجھتے جا رہے ہوں جاناں پھول ک سے نے قبول کرنے ہیں جب تلک مسکرا رہے ہوں جاناں لوگ پاگل بنائے جا چکے ہیں اب نیا کیا بنا رہے ہوں جاناں گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہیں ہیں شہر ہے وہ ہے وہ گل کھلا رہے ہوں جاناں اور ک سے نے تمہیں نہیں دیکھا اور ک سے کے خدا رہے ہوں جاناں

Muzdum Khan17 Likes

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

More from Muzdum Khan

تیری تصویر معطل نہیں ہوتی مری دوست ورنا دیوار تو پاگل نہیں ہوتی مری دوست عشق ہے وہ ہے وہ جیت مقدر سے ہے محنت سے نہیں ایسے کھیلوں ہے وہ ہے وہ ریہرسل نہیں ہوتی مری دوست ا سے نے بےچینی بھی بخشی ہے بڑی مشکل سے اور بےچینی مسلسل نہیں ہوتی مری دوست

Muzdum Khan

9 likes

مجھے لگ مانگتی تو بولتی خدا دو مجھے بچا لیا ہے گناہ سے تمہیں دعا دو مجھے یہ لوگ دیکھ رہیں ہیں مری چمک ہے وہ ہے وہ تمہیں کہی اکیلے جلانا ابھی بجھا دو مجھے مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا تمہیں کسی سے محبت ہے تو بتا دو مجھے

Muzdum Khan

11 likes

حقیقت جو مری تابکاری ہے وہ ہے وہ پگھلنے لگ گیا تو جو ستارہ بھی نہیں تھا حقیقت بھی جلنے لگ گیا تو خوبصورت عورتوں نے کر دی بینائی عطا آنکھ ملنے والا آخر ہاتھ ملنے لگ گیا تو دوسرا پاؤں نہیں رکھنے دیا ہے وہ ہے وہ نے اسے پہلا پاؤں رکھتے ہی چشمہ ابلنے لگ گیا تو

Muzdum Khan

8 likes

دنیا مری خلاف تھی تو بھی خلاف ہے یہ سچ نہیں ہے ہے تو مجھے اختلاف ہے جو بھی کرے ج ہاں بھی کرے ج سے طرح کرے اس کا کا کو مری طرف سے سبھی کچھ معاف ہے بھیگے ہوئے ہے دامن و رومال و آستیں حالانکہ آسمان پہ دم دار بھی صاف ہے آواز ہی سنی لگ ہوں ج سے بے وجہ نے کبھی ا سے کے لیے ہے وہ ہے وہ جو بھی ک ہوں انکشاف ہے بدنام ہوں گیا تو ہوں محبت ہے وہ ہے وہ نام پر مزدہم یہ میرا سب سے بڑا اعتراف ہے

Muzdum Khan

9 likes

ہمارا دل جب نہیں لگا تو سوال پیدا ہوا لگے گا جواب ہے وہ ہے وہ ہم نے کہ دیا ٹھیک ہے مغر اور کیا لگے گا یوں ہی کبھی تیر چوم کر حقیقت مری طرف چھوڑ دے کماں سے میرا مقدر تو ا سے طرح کا ہے تیر دشمن کو جا لگے گا کہ دوست ایسے معاشرے ہے وہ ہے وہ معاشقہ چاہتے ہیں مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے ہے وہ ہے وہ تھپڑ بھی خا لگ چا ہوں تو حقیقت بھی برقے ہے وہ ہے وہ آ لگے گا ہمارا نقشہ کرایہ محنت دماغ لگتا ہے راستوں پر تمہاری تو ان سے دوستی ہے تمہارا تو شکریہ لگے گا مشاعروں ہے وہ ہے وہ غزل نہیں لوگ صرف حلیوں کو دیکھتے ہیں میرا بھی ایک دوست ہے جو ہنسنے کے بعد جان ایلیا لگے گا

Muzdum Khan

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muzdum Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muzdum Khan's ghazal.