kuchh to hava bhi sard thi kuchh tha tira khayal bhi dil ko khushi ke saath saath hota raha malal bhi baat vo aadhi raat ki raat vo puure chand ki chand bhi 'ain chait ka us pe tira jamal bhi sab se nazar bacha ke vo mujh ko kuchh aise dekhta ek daf'a to ruk gai gardish-e-mah-o-sal bhi dil to chamak sakega kya phir bhi tarash ke dekh len shisha-giran-e-shahr ke haath ka ye kamal bhi us ko na pa sake the jab dil ka 'ajib haal tha ab jo palat ke dekhiye baat thi kuchh muhal bhi meri talab tha ek shakhs vo jo nahin mila to phir haath du'a se yuun gira bhuul gaya saval bhi us ki sukhan-taraziyan mere liye bhi dhaal thiin us ki hansi men chhup gaya apne ghhamon ka haal bhi gaah qarib-e-shah-rag gaah baid-e-vahm-o-khvab us ki rafaqaton men raat hijr bhi tha visal bhi us ke hi bazuon men aur us ko hi sochte rahe jism ki khvahishon pe the ruuh ke aur jaal bhi shaam ki na-samajh hava puchh rahi hai ik pata mauj-e-hava-e-ku-e-yar kuchh to mira khayal bhi kuchh to hawa bhi sard thi kuchh tha tera khayal bhi dil ko khushi ke sath sath hota raha malal bhi baat wo aadhi raat ki raat wo pure chand ki chand bhi 'ain chait ka us pe tera jamal bhi sab se nazar bacha ke wo mujh ko kuchh aise dekhta ek daf'a to ruk gai gardish-e-mah-o-sal bhi dil to chamak sakega kya phir bhi tarash ke dekh len shisha-giran-e-shahr ke hath ka ye kamal bhi us ko na pa sake the jab dil ka 'ajib haal tha ab jo palat ke dekhiye baat thi kuchh muhaal bhi meri talab tha ek shakhs wo jo nahin mila to phir hath du'a se yun gira bhul gaya sawal bhi us ki sukhan-taraaziyan mere liye bhi dhaal thin us ki hansi mein chhup gaya apne ghamon ka haal bhi gah qarib-e-shah-rag gah baid-e-wahm-o-khwab us ki rafaqaton mein raat hijr bhi tha visal bhi us ke hi bazuon mein aur us ko hi sochte rahe jism ki khwahishon pe the ruh ke aur jal bhi sham ki na-samajh hawa puchh rahi hai ek pata mauj-e-hawa-e-ku-e-yar kuchh to mera khayal bhi
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Parveen Shakir
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
1 likes
دھنک دھنک مری پورو کے خواب کر دےگا حقیقت لم سے مری بدن کو گلاب کر دےگا قباء جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دےگا جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدن کو ناو لہو کو سرحدوں کر دےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ کہوںگی م گر پھروں بھی ہار جاؤںگی حقیقت جھوٹ بولےگا اور لا جواب کر دےگا انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے حقیقت اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دےگا سکوت شہر سخن ہے وہ ہے وہ حقیقت پھول سا لہجہ سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دےگا اسی طرح سے ا گر چاہتا رہا پےہم سخن وری ہے وہ ہے وہ مجھے انتخاب کر دےگا مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی تمہاری یاد کے نام انتساب کر دےگا
Parveen Shakir
1 likes
اگرچہ تجھ سے بے حد اختلاف بھی لگ ہوا م گر یہ دل تری جانب سے صاف بھی لگ ہوا تعلقات کے وارث ہے وہ ہے وہ ہی رکھا مجھ کو حقیقت مری حق ہے وہ ہے وہ لگ تھا اور خلاف بھی لگ ہوا غضب تھا جرم محبت کہ ج سے پہ دل نے مری سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی لگ ہوا صورت انسان ہے وہ ہے وہ ک ہاں سان سے لے سکوگے حقیقت لوگ کہ جن سے کو کہوں کا بے پیرہن بھی لگ ہوا غضب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائی بے حد دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی لگ ہوا ہوا دہر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے لیے بجھاتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو تجھ سے کبھی اختلاف بھی لگ ہوا
Parveen Shakir
4 likes
چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا تو ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول چنتی رہی اور مجھے خبر لگ ہوئی حقیقت بے وجہ آ کے مری شہر سے چلا بھی گیا تو بے حد عزیز صحیح ا سے کو مری دلداری م گر یہ ہے کہ کبھی دل میرا دکھا بھی گیا تو اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں حقیقت تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا تو سب آئی مری عیادت کو حقیقت بھی آیا تھا جو سب گئے تو میرا درد آشنا بھی گیا تو یہ غربتیں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کیسی اتری ہیں کہ خواب بھی مری رخصت ہیں رتجگا بھی گیا تو
Parveen Shakir
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







