ghazalKuch Alfaaz

ku-ba-ku phail gai baat shanasai ki us ne khushbu ki tarah meri pazirai ki the news of our affinity has spread to every door he welcomed me like fragrance which he did adore kaise kah duun ki mujhe chhod diya hai us ne baat to sach hai magar baat hai rusvai ki how can i say that i have been deserted by my beau its true but this will cause me to be shamed for evermore vo kahin bhi gaya lauta to mire paas aaya bas yahi baat hai achchhi mire harjai ki each time he deserted me, came back to me once more i like this very aspect of my faithless paramour tera pahlu tire dil ki tarah abad rahe tujh pe guzre na qayamat shab-e-tanhai ki just as your heart is full of love, be dear ones by your side may pain of long and lonely nights be never in your store us ne jalti hui peshani pe jab haath rakha ruuh tak aa gai tasir masihai ki when he gently placed his hand upon my burning brow it was as though the saviour's touch had infused my core ab bhi barsat ki raton men badan tutta hai jaag uthti hain ajab khvahishen angdai ki till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore the yen to stretch out languidly then comes to the fore ku-ba-ku phail gai baat shanasai ki us ne khushbu ki tarah meri pazirai ki the news of our affinity has spread to every door he welcomed me like fragrance which he did adore kaise kah dun ki mujhe chhod diya hai us ne baat to sach hai magar baat hai ruswai ki how can i say that i have been deserted by my beau its true but this will cause me to be shamed for evermore wo kahin bhi gaya lauta to mere pas aaya bas yahi baat hai achchhi mere harjai ki each time he deserted me, came back to me once more i like this very aspect of my faithless paramour tera pahlu tere dil ki tarah aabaad rahe tujh pe guzre na qayamat shab-e-tanhai ki just as your heart is full of love, be dear ones by your side may pain of long and lonely nights be never in your store us ne jalti hui peshani pe jab hath rakha ruh tak aa gai tasir masihai ki when he gently placed his hand upon my burning brow it was as though the saviour's touch had infused my core ab bhi barsat ki raaton mein badan tutta hai jag uthti hain ajab khwahishen angdai ki till even now in rainy climes, my limbs are aching, sore the yen to stretch out languidly then comes to the fore

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے

Himanshi babra KATIB

45 likes

More from Parveen Shakir

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں

Parveen Shakir

7 likes

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر دیکھتی ہوں جاناں کنارہ دیکھنا یوں اندھیرا بھی بے حد آساں لگ تھا ا سے سے م گر جاتے جاتے ا سے کا حقیقت مڑ کر دوبارہ دیکھنا ک سے شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا کیا خوشگوار ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں کو مقابل ہے وہ ہے وہ صف آرا دیکھنا جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی خون ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا جیتنے ہے وہ ہے وہ بھی ج ہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے ایسی بازی ہارنے ہے وہ ہے وہ کیا خسارہ دیکھنا آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم لگ تھی مری لیے جانے اب کیا کیا دکھائےگا تمہارا دیکھنا ایک مشت خاک اور حقیقت بھی ہوا کی زد ہے وہ ہے وہ ہے زندگی کی قیامت کا استعارہ دیکھنا

Parveen Shakir

1 likes

گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا میرا اور ا سے کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھا گلاب قیمت شگفت شام تک چکا سکے ادا حقیقت دھوپ کو ہوا جو قرض بھی صبا کا تھا بکھر گیا تو ہے پھول تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے پوچھ گچھ ہوئی حساب باغباں سے ہے کیا دھرا ہوا کا تھا لہو چشیدہ ہاتھ ا سے نے چوم کر دکھا دیا جزا و ہاں ملی ج ہاں کہ مرحلہ سزا کا تھا جو بارشوں سے قبل اپنا رزق گھر ہے وہ ہے وہ بھر چکا حقیقت شہر مور سے لگ تھا بچیں دوربین بلا کا تھا

Parveen Shakir

2 likes

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا

Parveen Shakir

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.