ghazalKuch Alfaaz

ku-e-qatil hai magar jaane ko ji chahe hai ab to kuchh faisla kar jaane ko ji chahe hai log apne dar-o-divar se hoshiyar rahen aaj divane ka ghar jaane ko ji chahe hai dard aisa hai ki ji chahe hai zinda rahiye zindagi aisi ki mar jaane ko ji chahe hai dil ko zakhmon ke siva kuchh na diya phulon ne ab to kanton men utar jaane ko ji chahe hai chhanv vaadon ki hai bas dhoka hi dhoka ai dil mat thahar garche thahar jaane ko ji chahe hai zindagi men hai vo uljhan ki pareshan ho kar zulf ki tarah bikhar jaane ko ji chahe hai qatl karne ki ada bhi hasin qatil bhi hasin na bhi marna ho to mar jaane ko ji chahe hai ji ye chahe hai ki puchhun kabhi un zulfon se kya tumhara bhi sanvar jaane ko ji chahe hai rasan-o-dar idhar kakul-o-rukhsar udhar dil bata tera kidhar jaane ko ji chahe hai ku-e-qatil hai magar jaane ko ji chahe hai ab to kuchh faisla kar jaane ko ji chahe hai log apne dar-o-diwar se hoshiyar rahen aaj diwane ka ghar jaane ko ji chahe hai dard aisa hai ki ji chahe hai zinda rahiye zindagi aisi ki mar jaane ko ji chahe hai dil ko zakhmon ke siwa kuchh na diya phulon ne ab to kanton mein utar jaane ko ji chahe hai chhanw wadon ki hai bas dhoka hi dhoka ai dil mat thahar garche thahar jaane ko ji chahe hai zindagi mein hai wo uljhan ki pareshan ho kar zulf ki tarah bikhar jaane ko ji chahe hai qatl karne ki ada bhi hasin qatil bhi hasin na bhi marna ho to mar jaane ko ji chahe hai ji ye chahe hai ki puchhun kabhi un zulfon se kya tumhaara bhi sanwar jaane ko ji chahe hai rasan-o-dar idhar kakul-o-rukhsar udhar dil bata tera kidhar jaane ko ji chahe hai

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Kaleem Aajiz

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

Kaleem Aajiz

0 likes

مجھے ا سے کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا گو ستم نے تری ہر اک طرح مجھے نا امید بنا دیا یہ مری وفا کا غصہ ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا کوئی بزم ہوں کوئی صورت آشنا یہ شعار اپنا اچھی اچھی ہے ج ہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا تجھے اب بھی مری خلوص کا لگ یقین آئی تو کیا کروں تری گیسوؤں کو سنوارت کر تجھے آئی لگ بھی دکھا دیا مری شاعری ہے وہ ہے وہ تری سوا کوئی ماجرا ہے لگ مدعا جو تری نظر کا فسا لگ تھا حقیقت مری غزل نے سنا دیا یہ غریب عاجز بے وطن یہ غبار خاطر انجمں یہ خراب ج سے کے لیے ہوا اسی بےوفا نے بھلا دیا

Kaleem Aajiz

0 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسان یہ نہیں پسند مجھ کو تری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تری بے رکھ پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دوں ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤں یہ ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

0 likes

منا فقیروں سے لگ پھیرا چاہیے یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے چاہ کا گاہے اونچا چاہیے جو لگ چاہیں ان کو چاہا چاہیے کون چاہے ہے کسی کو بے غرض چاہنے والوں سے بھاگا چاہیے ہم تو کچھ چاہے ہیں جاناں چاہو ہوں کچھ سمے کیا چاہے ہے دیکھا چاہیے چاہتے ہیں تری ہی دامن کی خیر ہم ہیں دیوانے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا چاہیے بے رکھ بھی ناز بھی انداز بھی چاہیے لیکن لگ اتنا چاہیے ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہی آپ کہ لیجے جو کہنا چاہیے بات چاہے بے سلیقہ ہوں کلیم بات کہنے کا سلیقہ چاہیے

Kaleem Aajiz

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.